United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
سے داخل ہونے لگے۔ میں نے روکا تو مجھ سے لڑنے کے لئے تیار ہوگئے۔ اگر یہ بیان صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ موجودہ مسلمان (کم از کم ان کی اکثریت) اصول کے تحت باقاعدگی اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ صرف ڈر کے تحت باقاعدہ بننا جانتی ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں اس وقت اسلامک سنٹر کے نام سے ایک ہزار سے زیادہ ادارے قائم ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ عملی حالت کے اعتبار سے یہ ادارے مسلم کلچرل سنٹر ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامک سنٹر۔ یہ مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی ضرورت کا اظہار ہیں نہ کہ اسلام کے اصولی اور دعوتی تقاضے کا اظہار۔ امریکہ کے شہروں میں آپ کو بس اور ٹرام اور ریلوے دکھائی نہیں دیں گی۔ اس کے برعکس ان سڑکوں پر ہر وقت کاروں کا مشینی سیلاب بہتا رہتا ہے۔ بظاہر یہ ترقی کی علامت ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہوگا یہ سرمایہ دارانہ استحصال ہے۔ یہاں کے سرمایہ دار نظم طور پر یہ کوشش کرتے رہتے ہیں یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام قائم نہ ہونے پائے تاکہ ان کی کاریں زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ یہاں رہنے والا ایک شخص نہایت آسانی سے قسط وار ادائیگی کی بنیاد پر ایک یا زیادہ کار خرید سکتا ہے اور اسی طرح دوسری تمام چیزیں بھی، اس طرح یہاں کا تقریبا ہر آدمی اپنی کمائی کا بہترین حصہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اکاونٹ میں پہنچاتا ہے، سامان کی ادھار خریداری کی صورت میں، نیز اس کے اوپر مستقل سود کی ادائیگی کے ذریعہ۔ قرض پر مبنی اس اقتصادیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کے پاس دین کی مد میں دینے کے لئے بہت کم رقم باقی رہتی ہے۔ بظاہر یہاں کا ہر مسلمان کافی کما رہا ہے مگر دین کی مددوں میں تعاون دینے کے لئے وہ اپنے آپ کو عاجز پاتا ہے۔ ۲ دسمبر کو سین گیں بریل (San Gabril Valley) کے اسلامک سنٹر میں تقریب کا پروگرام تھا۔ جناب عبدالقادر البخار کے ساتھ یہ سفر طے ہوا۔ موصوف کا خاندان طائف سے اگر حلب (شام) میں آباد ہو گیا۔ ۷۳ سال پہلے وہ حلب سے امریکہ آگئے۔ اب وہ یہاں کے شہری ہو چکے ہیں۔ وہ پر جوش حد تک دین پسند آدمی ہیں۔ جلتے اور آتے ہوئے مجموعی طور پر ۷

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader