Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ وہاں الرساله مشن کو پھیلا رہے ہیں۔ 4 دسمبر کی شام کو دوبارہ نیو یارک سے جناب محمد ابراہیم صاحب (۴۴ سال) کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کمپیوٹر انجینئر ہیں اور ۱۸ سال سے نیو یارک میں مقیم ہیں ۔ وہ ۱۹۸۹ میں حج کے لئے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے دعا کی کہ خدایا ، مجھے دین کا علم عطا فرما۔ واپسی پر ان کی ملاقات کلیم الدین صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے محمد ابراہیم صاحب کو الرساله پڑھنے کے لئے دیا۔ الرساله کو پڑھتے ہی انھیں محسوس ہوا کہ ان کی دعا قبول ہوگئی۔ الرساله اور مطبوعات الرساله کی صورت میں انھوں نے اس علم دین کو پالیا جو ان کی روح طلب کر رہی تھی۔ اب دونوں مل کر نیو یارک میں الرساله مشن کا کام کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک مغربی دنیا میں سب سے بڑا اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی زبان میں صحیح اسلامی لٹریچر موجود نہیں۔ یہاں میں نے ۵۰ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب دیکھی۔ وہ خاص طور پر غیر مسلموں میں اسلام کے تعارف کے لئے چھاپی گئی ہے۔ اس کا نام تھا : Introducing Islam to non-Muslims اس کتاب میں جہاد کے عنوان کے تحت کہا گیا تھا کہ جہاد مقدس جنگ (Holy War) نہیں ہے۔ مقدس جنگ کا تصور ایک مسیحی تصور ہے۔ اس کے بعد جہاد کی تشریح کرتے ہوئے درج تھا کہ جہاد صرف دفاعی جنگ بھی نہیں ۔ بلکہ وہ کسی بھی غیر منصفانہ حکومت کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ اگر ایسی حکومت موجود ہے تو اس کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ یہ جنگ لیڈروں کے خلاف ہوگی نہ کہ ملک کے عوام کے خلاف۔ عوام کو نا منصفانہ حکومت کے قبضہ سے نکالا جائے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اللہ پر ایمان لاسکیں : Jihad is not also a defensive war only, but a war against any unjust regime. If such a regime exists, a war is to be waged against the leaders, but not against the people of that country. People should be freed from the unjust regimes and influences so that they can freely choose to believe in Allah. جہاد کا یہ نظریہ غلط ہے اور وہ غیر مسلموں کو اسلام سے بیزار کرنے والا ہے۔ یہ نظریہ جہاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page