United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
کومسییوں کی مقدس جنگ کی مانند بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد دونوں کو الگ کرنا ممکن نہیں۔ ۵ دسمبر کی صبح کو میں نماز فجر کے بعد مسجد سے رہائش گاہ کی طرف آرہا تھا۔ ایک کراسنگ پر انھوں نے اپنی گاڑی روک دی۔ حالاں کہ سامنے ہری بتی جل رہی تھی۔ دوسری طرف سامنے کی سڑک سے ایک اور بڑی گاڑی آئی، وہ رکے بغیر گزر گئی۔ حالاں کہ وہاں لال بتی جل رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دوسری گاڑی ایمبولنس کی گاڑی تھی۔ وہ خاص الارم بجاتے ہوئے جارہی تھی۔ ایمبولنس یا فائر بریگیڈ کی گاڑی جب کسی راستہ سے گزرے تو ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ وہ مسلسل اپنی منزل کی طرف چلتی رہتی ہے خواہ وہاں لال بتی ہو۔ اور دوسری گاڑیاں کھڑی ہو جاتی ہیں خواہ ان کے سامنے ہری بتی جل رہی ہو۔ جب کہیں ایمرجنسی پیش آجائے تو تمام سرگرمیوں کو روک کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ نا پڑتا ہے۔ یہ حیات دنیا کا قانون ہے۔ یہی معاملہ مزید شدت کے ساتھ آخرت کے لئے ہے۔ جب لوگ ہدایت سے دور ہو جائیں اور حیات آخرت کے اعتبار سے لوگوں کے لئے نقصان کا اندیشہ ہو تو تمام دوسری سرگرمیوں کو روک کر لوگوں کو ہدایت کا پیغام پہنچایا جائے گا۔ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگ ہدایت کے راستہ پر نہ آجائیں۔ لاس اینجلینز کی کانفرنس ۱۹۷۴۔ ۲۵ نومبر میں امام عزت اللہ المجددی سے ملاقات ہوئی۔ وہ افغانی لیڈر پروفیسر صبغت اللہ المجددی کے بھائی ہیں۔ نہایت ذہین آدمی ہیں اور کئی زبانیں جانتے ہیں۔ وہ جہاد افغانستان میں زخمی ہو گئے تھے۔ علاج کے بعد اب اچھے ہیں ۔ افغانی قوم ایک نہایت جاندار قوم ہے۔ اس کے اندر غیر معمولی صلاحیت ہے۔ مگر سیکڑوں سال سے یہ صلاحیت جنگ و قتال کی راہ میں لگی ہوئی ہے۔ اس سے افغانی قوم کی بہادری کی مثالیں تو ضرورت ائم ہوئی ہیں۔ مگر اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ افغانستان اپنے سارے امکانات کے باوجود کسی بھی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔ پچھلی صدی میں افغانیوں نے انگریزوں کا سیاسی غلبہ اپنے ملک میں ہونے نہیں دیا۔ موجودہ صدی میں انھوں نے روسیوں سے لڑ کر انھیں ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے میں اس کو کوئی بڑا کارنامہ نہیں سمجھتا۔ اسلامی اعتبار سے ان کے لئے زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader