United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
صغیر اسلم صاحب اور ان کے بچے امریکہ کے شہری بن چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ نے ابھی شہریت نہیں لی تھی۔ ۲۸ نومبر کی صبح کو وہ لوگ شہریت کی کارروائی مکمل کرنے کے لئے لاس اینجلس کے متعلقہ آفس میں جا رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ میں بھی اس " تاریخی منظر " کو دیکھوں۔ چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ امریکی شہریت دینے کی تقریب (ceremony) سال میں دو بار کی جاتی ہے۔ کنونشن سنٹر پہنچا تو وہاں ہزاروں انسانوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ تمام امیدوار صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل کر یہاں پہنچے تھے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر انھوں نے اس موقع کو کھو دیا تو دوسرا موقع چھ مہینے کے بعد آئے گا۔ خاص راستوں سے گزر آتے ہوئے تمام لوگ ایک بہت بڑے ہال میں لے جانے گئے جہاں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک طرف شہریت کے امیدوار اور دوسری طرف ویزٹرس بٹھا دیئے گئے۔ اسٹیج سے اس تقریب (ceremony) کی اہمیت بتائی جارہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد ایک سفید فام جج آکر صدارت کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سب سے پہلے امیدوار لوگوں نے امریکہ کا ایک چھوٹا سا کاغذی جھنڈا اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ہلایا۔ جج نے آپ کی زندگی کے اس تاریخی دن (This historic day of your life) کے الفاظ سے آغاز کرتے ہوئے کچھ ضروری باتیں کہیں۔ اس کے بعد اس نے حلف کے انگریزی الفاظ کہے اور ہر ایک نے اس کو بلند آواز سے دہرایا۔ اس کی تکمیل کے بعد جج نے اعلان کیا کہ اب یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کے شہری ہیں۔ آخر میں سب لوگوں کو کھڑا کر کے نیشنل اینتھم بجایا گیا۔ معلوم ہوا کہ تین دنوں کے اندر صرف لاس اینجلس کے سات ہزار آدمیوں کو امریکہ کا شہری بنایا گیا ہے۔ اب ہم لوگ ہال سے باہر کر دیئے گئے۔ کچھ دیر کے بعد نئے امریکی شہری ایک ایک کر کے باہر آنے لگے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں سفید کا کاغذ کا ایک بڑا لفافہ تھا۔ اس میں شہریت کا سرٹیفکیٹ اور دوسرے کاغذات رکھے ہوئے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر خوشی چمک رہی تھی۔ کوئی لفافہ کو سنبھال رہا تھا، کوئی اپنے ساتھی کو سرٹیفکیٹ نکال کر دکھا رہا تھا۔ کچھ لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہاتھ میں امریکی جھنڈا اور دوسرے ہاتھ میں شہریت کا سرٹیفکیٹ لئے ہوئے فوٹو کھنچوا رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader