Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک طرف کھڑا ہوا یہ مناظر دیکھ رہا تھا۔ اس میں مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے مرد اور عورت شامل تھے۔ اچانک ایک شخص نے میری طرف بڑھ کر کہا : السلام علیکم ۔ یہ محمد جاوید الٰہ آبادی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے بھی آج یہاں آکر امریکہ کی شہریت لی ہے۔ میری مسلمان صورت دیکھ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے تھے۔ انھوں نے سامنے کی بھیڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس سٹیزن شپ میں کیا دھرارہا ہے ، اصلی سٹیزن شپ تو مرنے کے بعد والی ہے۔ ان کا یہ جملہ سن کر مجھ پر عجیب تاثر ہوا۔ میں نے سوچا کہ امریکہ کی شہریت لینے کے لئے لوگ کہاں کہاں سے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ مگر جنت کا شہری بننے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ جنت کا شہری بنانے کی کھڑکییاں امید واروں کی قطار سے خالی ہیں۔ یہاں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کا اقتصادی نظام تو عربوں کی دولت پر چل رہا ہے۔ عربوں کی جو دولت یہاں کے بینکوں میں جمع ہے اور یہاں کی مختلف کمپنیوں میں عربوں کا جو سر مایہ لگا ہوا ہے ، اس کو اگر وہ نکال لیں تو امریکہ دیوالیہ ہو جائے گا۔ دوسری طرف میری ملاقات ایک ہندو انجینئر مسٹر من سے ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ کو تو ہندو ماہرین چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد در اصل ہندوستانی ہے۔ اور یہی امریکہ کی بڑائی کا راز ہے۔ وہ ہر ملک کے بہترین افراد کو اپنی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور ان کو اپنے اندر شامل کر لیتا ہے: A large number of American scientists are in ract Indian. And that is part of America's greatness. It attracts, absorbs and assimilates the best from every land. یہ مشابہت بھی کیسی عجیب ہے کہ ہندو یا مسلمان کوئی بھی خود ”اپنے ملک“ کو ترقی نہ دے سکا، البتہ دونوں اس بات پر فخر کر رہے ہیں کہ وہی ہیں جنھوں نے ”دوسرے ملک“ کو اعلیٰ ترقی کے درجہ تک پہنچایا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ملک دونوں کے نزدیک قابل مذمت سامراجی ملک ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page