Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ میں قیام کے دوران میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ وہ یہاں کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مذکورہ مسجد سے تعلق رکھنے والے مسلمان ان کے خلاف ہو گئے ہیں اور ان کو مسجد کی امامت سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک بار جمعہ کی تقریر میں صدام حسین کی مذمت کی تھی ، اور خلیج کے معاملے میں سعودی موقف کی حمایت کی تھی۔ یہ کوئی انفرادی بات نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیج کے موجودہ بحران میں مسلم دنیا کی اکثریت صدام حسین کی حامی ہے۔ علما کی اکثریت نے اگرچہ صدام حسین کو غلط ٹھہرایا ہے ، مگر مسلم عوام کی اکثریت اس معاملہ میں پر و صدام نقطہ نظر رکھتی ہے۔ صدام حسین کا کویت پر حملہ واضح طور پر جارحیت ہے۔ صدام حسین نے کویت میں داخلے کے بعد مبینہ طور پر مسلمانوں پر سنگین مظالم کئے ہیں۔ ان سب کے باوجود کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد صدام حسین کی مذمت نہیں کرتی ، بلکہ ان کو ہیرو کا مقام دئے ہوئے ہے۔ اس وجہ مسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات ہے۔ مسلمان ایک سوال سے اس احساس میں مبتلا ہیں کہ مغربی قوموں نے ان کے وقار کو مجروح کیا۔ ان کے اقتدار کا خاتمہ کیا۔ ان کی تہذیب کو مٹا ڈالا۔ اس شکست خوردگی کی بنا پر جب کبھی وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے ” دشمنوں “ کو چیلنج کر رہا ہے تو اس سے انھیں ایک قسم کی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ایسا آدمی ان کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔ یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر موجودہ صدی کے آغاز میں کمال اتا ترک مسلمانوں کے ہیرو بن گئے۔ اس کے بعد جمال عبد الناصر ، معمر قذافی ، آیات اللہ خمینی ، ٹھیک اسی بنا پر ان کے ہیرو بنتے رہے ہیں۔ اور اب اسی بنا پر انھوں نے صدام حسین کو اپنا ہیرو بنا رکھا ہے ، کیوں کہ کم از کم الفاظ کی حد تک ، وہ ” دشمن اکبر “ امریکہ سے چیلنج کی زبان میں بات کر رہا ہے۔ یہ خوش خیالیوں کی دنیا میں کسی کو ہیرو بن کر اپنی مفروضہ فتح پر خوشی منانا ہے۔ ایسی مفروضہ فتح کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ اس دنیا میں حقائق کی قیمت ہے نہ کہ مفروضات کی۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو عراق نے کویت پر فوجی قبضہ کر لیا تھا۔ نومبر کے خاتمہ پر اس کے قبضے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page