United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
کو چار مہینے پورے ہو جائیں گے ۔ اس مدت میں امریکہ کی قیادت میں مختلف ملکوں نے عراق سے مطالبہ جاری کر رکھا تھا کہ وہ بلا شرط کویت کو خالی کر دے ۔ سوویت یونین اس معاملہ میں امریکہ کے ساتھ تھا ، مگر شرائط اور تحفظات کے ساتھ ۔ روزنامہ آرچ کا ونٹی رجسٹر ( ۷ نومبر ۱۹۹۰ ) میں صفحہ اول پر یہ سرخی پڑھی کہ سوویت یونین اب تحفظات کو ختم کر کے امریکہ کا حامی ہو گیا ہے۔ اس خبر کی سرخی ہے ــــ عراق کے لئے ایک آخری موقع : final opportunity for Iraq خبر میں بتایا گیا تھا کہ سوویت یونین کے پریذیڈنٹ میخائیل گور با چیف نے الٹی میٹم کی زبان میں بولتے ہوئے کہا کہ عراق جنوری ۱۹۹۱ تک کویت سے اپنی فوجیں واپس بلالے ورنہ جنگی کارروائی کا سامنا کرے ۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق ، انھوں نے کہا کہ عراق کی قسمت اس کی قیادت کے ہاتھ میں ہے ، اور وقت اب اس کے لئے ختم ہو رہا ہے : The fate of Iraq is in the hands of its leadership. Time is running out. میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ اگر معاملہ کو وسیع تر معنوں میں لیا جائے تو یہ وارننگ نہ صرف صدام حسین کے لئے ہے بلکہ گوربا چیف ، جارج بش اور تمام دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے ۔ ہر ایک کے لئے وقت ختم ہو رہا ہے ۔ ہر ایک اس لمحہ کی طرف بڑھ رہا ہے جب کہ صور کا صور پھونک دیا جائے اور ہر آدمی کو وہاں کھڑا کر دیا جائے جہاں اس کے لئے صرف اپنے کئے کا انجام پانے کا موقع ہو ، سرکشی کرنے کا موقع کسی کے لئے باقی نہ رہے۔ یہاں کے اخبارات کا طریقہ ہندوستانی اخبارات سے مختلف ہے۔ یہاں کا اخبار سیکڑوں صفحات کا ایک بنڈل ہوتا ہے۔ مگر وہ ایک کتاب کی صورت میں نہیں ہوتا۔ اس کے الگ الگ بہت سے سیکشن ہوتے ہیں ۔ مثلاً ورلڈ نیوز ، ٹریلول ، اسپورٹس ، میٹر و ، وغیرہ۔ ۲۵ نومبر کو میں روزنامہ آرچ کا ونٹی رجسٹر کا سیکشن ہوم فائنڈر دیکھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک ہنستی ہوئی تصویر تھی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا " وجہ سونی "۔ مسٹر سونی دہیرہ دون میں ۱۹۴۲ میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے سول انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری لی ۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader