Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

عرصہ تک انڈیا میں کام کرنے کے بعد ۱۹۸۲ میں وہ امریکہ چلے گئے ۔ اب وہ آرینج کاؤنٹی میں مقیم ہیں ۔ ٹیلیفون 5598451 وہ جائیداد (real estate) کی خرید وفروخت کا کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے کیلی فورنیا میں اس کام میں نمبر ۲ کی حیثیت حاصل کرلی ہے ۔ وہ اپنی کامیابی کا کریڈٹ سب سے زیادہ ڈیل کارنیگی کو دی ہے جس کی درج ذیل کتاب انھوں نے بار بار پڑھی ہے : How to Win Friends and Influence People. انھوں نے کہا کہ میں اپنے گاہک کی بات کو نہایت غور سے سنتا ہوں اور اس کی ہر بات کا غذ پر نوٹ کرتا جاتا ہوں ۔ میرے بستر پر مستقل طور پر ایک نوٹ بک موجود ہوتی ہے ۔ تاکہ رات کے وقت اگر ٹیلی فون پر کوئی پیغام ملے تو اسی وقت میں اس کو لکھ کر محفوظ کر لوں ۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۹۰ء کے لئے میرا نشانہ ۲۵ ملین ڈالر ہے : My goal for 1990 is $25 million. ہر آدمی حقیقی کے نام پر غیر حقیقی (non-real) کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے ، اس دنیا میں کوئی نہیں جو واقعی معنوں میں حقیقی (real) کو اپنا نشانہ بنانے پر تیار ہو۔ یہاں کے لوگوں میں یہ ذوق ہے کہ وہ اپنی کار کے پیچھے نمبر پلیٹ کے اوپر کچھ پسندیدہ فقرے لکھ دیتے ہیں ۔ اس طرح کی کئی گاڑیاں میں نے دیکھیں ۔ چند گاڑیوں پر لکھے ہوئے جملے یہ تھے : Sex is like credit. Some get it, Some don't. Happiness is being a grandparent. Get rich on life, not drugs. غالب بوڑھے لوگ اس قسم کے فقرے اپنی گاڑیوں پر لکھتے ہیں ، انسانوں میں انھیں کوئی نہیں ملتا جس سے وہ کامیابی کے ساتھ اپنی بات کہہ سکیں۔ اس لئے وہ وہ اپنی مشین پر اسے نقش کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں ۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ کی شام کو یہاں سے واپسی ہوئی ۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کے ساتھ لاس اینگیلز ائیر پورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوا تو ایک منظر میرے لئے بڑا عجیب تھا۔ ایک جاپانی خاتون

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page