United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت بڑا سا ایک ”لڑکا“ اپنے سینے سے لگائے ہوئی تھی۔ لڑکے کے موٹے موٹے ہاتھ اور پاؤں لٹک رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اتنے بڑے لڑکے کا بوجھ وہ کیسے اتنی آسانی کے ساتھ اٹھائے ہوئے ہے معلوم ہو کہ وہ زندہ لڑکا نہیں ہے بلکہ کسی ہلکی چیز سے بنی ہوئی بہت بڑی گڑیا ہے۔ ماڈرن عورت لڑکا پیدا کرنا نہیں چاہتی۔ مگر وہ اولاد کی فطری طلب کو بھی اپنے اندر سے نکال نہ سکی۔ حقیقی اولاد سے محرومی کی تلافی وہ مصنوعی اولاد کے ذریعہ کر رہی ہے۔ ایئر پورٹ کے اندرونی حصہ میں داخل ہونے سے پہلے، قاعدہ کے مطابق، ہمارا سامان ایک مخصوص قسم کے متحرک بیلٹ پر رکھ آگیا۔ اور اس پر چلتا ہوا اندرونی حصہ میں پہنچ گیا۔ اسی طرح تمام لوگوں کے سامان اس کے اوپر رکھ کر گز ارے جارہے تھے۔ میں نے دیکھا تو او پر لگی ہوئی اسکرین میں ہر چیز کی صاف تصویر آرہی تھی۔ بکس مکمل طور پر بندتھا۔ مگر اس کے اندر جو چیز تھی، مشین اس کی تصویر لے کر اسکرین کے اوپر اس کو منعکس کر رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح خدا ہر ایک کی اندرونی حالت کو دیکھ رہا ہے۔ آدمی خواہ مخاہند کمرہ میں کوئی عمل کرے یا اپنے سینے کے اندر کوئی بات سوچے، خدائے عالم الغیب سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ لاس اینجلیز سے جاپان ایئرلائنئر کی فلائٹ نمبر ۲۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہاں کے ایئر پورٹ پر تقریباہر وقت کوئی جہاز اترتا ہے یا اڑ رہا ہوتا ہے۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے دوری کے مسئلہ کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب زمین کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ کے درمیان ربط قائم کرنا اتنا ہی آسان ہوگیا ہے جتنا کسی محلہ کے ایک حصہ اور دوسرے حصہ میں۔ اس مواصلاتی انقلاب سے لوگ زبردست سیاسی اور تجارتی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ مثلاً جاپان اور امریکہ کے درمیان ہر روز ۱۲ فلائٹ آتی ہے اور ۱۲ فلائٹ جاتی ہے۔ مگر اس مواصلاتی انقلاب کو اب تک اشاعت حق کے لئے استعمال نہ کیا جاسکا۔ راستہ میں ایئر ہوسٹس اخبار لے کر آئی۔ میں نے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں بظاہر بہت سے اخبار تھے۔ میں نے چاہا کہ ان میں سے ایک لے لوں۔ اس نے کہا کہ یہ سب ایک ہی اخبار ہے یہ لاس اینجلیز ٹائمس (۷ دسمبر ۱۹۹۰) تھا۔ میں نے گنا تو اس کے کل ۸۰ صفحات تھے یہی امریکی اخبارات کا عام انداز ہے۔ وہ اخبار سے زیادہ اشتہارات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader