United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اتنے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین (Winds) کے شمارہ دسمبر ۱۹۹۰ کو دیکھ رہا تھا۔ ضمیم میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ ایک صفحہ پر یہ الفاظ درج تھے : If you've got a minute, Minolta's got a copier یہ کاپی کرنے والی مشین کا اشتہار تھا۔ اس میں چھوٹی بڑی مشینوں کی تصویریں تھیں ۔ ۱۵ ـــــــ کاپی فی منٹ ، ۳۰ کاپی فی منٹ ، ۴۰ کاپی فی منٹ ، ۶۰ کاپی فی منٹ ۔ اس کو دیکھ جناب صفی قریشی صاحب کی یاد آئی کہ موجودہ سوسائٹی انسٹینٹ فکس (instant fix) سوسائٹی ہے۔ انسٹینٹ کافی کی طرح ہر کام فوری طور پر ہوتا ہے۔ اس سے جدید انسان فوری حل کا عادی ہو گیا ہے۔ یہ آخرت کا پیغام دینے والی تحریک کے لئے ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے۔ انسان اپنے مسئلہ کو ”آج“ حل کرنا چاہتا ہے ، اور آخرت کا نظریہ اس کو ”کل“ تک موخر کر رہا ہے۔ یہ بڑا جہاز (۷۴۷) تھا۔ مگر چند کو چھوڑ کر اس کے تمام مسافر جاپانی تھے۔ جہاز کے اندر کال سکون نظر آیا۔ ہندوستانی مسافر جس جہاز میں ہوں ، اس کے اندر شور لازمی ہے۔ ٹائلٹ میں جائیے تو گند اکیا ہو ا ملے گا۔ بچے جہاز کے اندر دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر موجودہ جہاز میں اس قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ اکثر مسافر پڑھتے یا لکھتے ہوئے دکھائی دئے۔ جاپانیوں کا یہی مزاج جاپانیوں کا اصل سرمایہ ہے۔ ان کی ترقی کا اصل راز ان کا یہی تعمیری مزاج ہے۔ لاس اینجیلیز سے ٹوکیو تک تقریباً دس گھنٹہ کی مسلسل پرواز ہے۔ یہ پورا سفر بحر الکاہل کے اوپر طے ہوتا ہے ۔ بحر الکاہل کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اس کے اندر ہمالیہ پہاڑ ڈال دیا جائے تو وہ اس طرح ڈوب جائے کہ اس کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دے گا۔ اتنے گہرے اور اتنے بڑے سمندر کے اوپر انسان تیز رفتاری کے ساتھ اڑتا ہوا ایک ساحل سے دوسرے ساحل پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا یہ کیسا عجیب کرشمہ ہے۔ ” اس وقت ہم ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہے ہیں۔ جہاز کے پائلٹ نے اعلان کیا۔ میں نے جہاز کے ایک جاپانی افسر سے پوچھا کہ اتنی زیادہ بلندی پر اڑنے کا سبب کیا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس وقت آپ سمندر کے اوپر ہیں ، آپ دو ہزار فٹ کی بلندی پر بھی اڑ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader