United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقوں کو استعمال کر کے جب آدمی نے یہ خوبصورت دنیا بنا لی تو معلوم ہوا کہ اس خوبصورت دنیا میں داخلہ اس کے لئے حرام ہے۔ لوگوں کے پاس خوبصورت مکانات ہیں۔ مگر ان مکانات کے اندر خوبصورت زندگی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا صرف جنت کا تعارف ہے ، مگر وہ بذات خود جنت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کے سامان وں کی موجودگی کے باوجود یہاں آدمی خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ جاپان نسبتاً ایک چھوٹا ملک ہے۔ رقبہ کے اعتبار سے ہندوستان اس سے نو گنا زیادہ بڑا ہے۔ مگر ہندوستان آج مقروض ملک ہے ، جب کہ جاپان ساری دنیا کو قرض دے رہا ہے۔ اس کی وجہ جاپان کی صنعتی ترقی ہے۔ عالمی تجارت (global trade) میں جاپان کا حصہ تقریباً ۲۵ فی صد ہے۔ جب کہ ہندوستان کا حصہ عالمی تجارت میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشو ہندو پریشد جیسی جماعتیں بھارتیت کا نعرہ لگا رہی ہیں۔ ان کے لئے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ ملک کو سائنس اور صنعت کے میدان میں اوپر اٹھائیں۔ مگر وہ مذہبی جھگڑے بڑھانے ہی کو سب سے بڑا کارنامہ سمجھے ہوئے ہیں۔ ٹوکیو ابتداً سولھویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ محض مچھلی پکڑنے کا گاؤں (Fishing village) تھا۔ اور اس کا نام (Yedo) تھا۔ ۱۸۶۸ میں اس کو ٹوکیو کے نام سے موسوم کیا گیا جس کا مطلب مشرقی راجدھانی ہے۔ ۱۹۳۰ میں اس کی آبادی ۵۰ لاکھ کے قریب تھی۔ ٹوکیو بار بار زلزلہ سے دوچار ہوا ہے۔ ان میں ۱۹۲۳ کا زلزلہ سب سے زیادہ شدید تھا جس میں شہر کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد ٹوکیو کی نئی تعمیر کا سوال سامنے آیا۔ اب ماہرین تعمیرات نے نئے انداز میں شہر کی منصوبہ بندی کی تاکہ زلزلہ کی صورت میں اس کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ مثلاً چوڑی سڑکیں ، بڑے بڑے پارک اور اسی طرح مکانات کو لوہے اور سمنٹ کے ذریعہ اس طرح بنانا تاکہ وہ زلزلہ کے مقابلہ میں ٹھہر سکیں : New buildings, designed to withstand earthquakes had frames of concrete and steel.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader