Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح جاپان کے اندرونی حالات نے اس کو یہ سبق دیا کہ اگر اس کو زندہ رہنا ہے تو اس کو حالات کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ دوسری عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۹۱۸) میں فضائی بم باریوں کے نتیجہ میں پھر شہر ٹوکیو کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا۔ اب دوبارہ ٹوکیو کی تعمیر نئے منصوبہ کے تحت کی گئی۔ جاپان نے اپنے ناموافق حالات کے خلاف فریاد اور احتجاج کا انداز اختیار نہیں کیا۔ بلکہ غور وفکر کے ذریعہ اپنی تعمیر نو کی ندبیر تلاش کی۔ یہ جاپانی کردار کا مخصوص پہلو ہے۔ اور اسی نے جاپان کی ترقی میں اہم حصہ ادا کیا ہے۔ ایک جاپانی مثل جاپانیوں کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ انگریزی میں اس طرح کیا گیا ہے کہ آدمی فتح سے بہت کم سیکھتا ہے مگر شکست سے وہ بہت زیادہ سیکھ لیتا ہے: Man learns little from victory, but much from defeat. اس سفر میں میرا جانا اور آنا دونوں جاپان کے راستہ سے ہوا۔ اس دوران مختلف مراحل پر جن لوگوں سے گفتگو ہوئی ان کو تاریخ وار درج کرنے کے بجائے یکجائی طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ ایک سیاح سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلی بار جاپان کی سیاحت کے لئے آئے تھے اور اب واپس وطن جارہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جاپان کے بارے میں اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایک ٹیکسی سے سفر کر رہے ہوں اور ٹیکسی ڈرائیور آپ کے بتائے ہوئے پتہ پر پہنچ نہ پا رہا ہو تو وہ ٹیکسی سے اتر کر پبلک بوتھ پر جائے گا اور اپنے پیسہ سے ٹیلیفون کرکے صحیح جگہ کو معلوم کرلے گا اور آپ کو عین دروازہ پر لے جاکر اتارے گا ایسا صرف جاپان میں ہوتا ہے: A cab-driver failing to locate the address you want to reach, rings up from a public booth on his own account to get the exact location and drops you at the very doorstep. This happens only in Japan. اس قسم کے واقعات کا تعلق قومی مزاج سے ہے۔ قوم کی تعمیر کے سلسلہ میں سب سے زیادہ اہمیت مزاج سازی کی ہے۔ ہمارے یہاں کام کے نام پر بے شمار ہنگامے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page