Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری ہیں ، مگر اسی بنیادی کام کا کوئی وجود نہیں۔ جاپان کی اقتصادی ترقی کو باہر کی دنیا میں رشک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر خود جاپان کا باشعور طبقہ اس پر زیادہ خوش نہیں۔ میں نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جاپانی سے جاپان کی تجارتی ترقی کی تعریف کی۔ اس نے فوراً کہا ، مگر جاپان بین الاقوامی سطح پر وہ مقام حاصل نہ کر سکا جس کا وہ مستحق تھا : But Japan did not succeed to secure the important place it deserves in the comity of nations. اس کے نزدیک اس کا سبب یہ تھا کہ جاپان کے پاس خارجہ پالیسی کا فقدان (lack of foreign policy) ہے ۔ میں نے کہا کہ کامیاب خارجہ پالیسی کے لئے کوئی بنیاد درکار ہوتی ہے ، اور وہ بنیاد جاپان کے پاس موجود نہیں۔ جاپان نے اپنی پچاس سالہ کوشش سے غیر معمولی اقتصادی ترقی حاصل کرلی۔ اب مسئلہ انٹرنیشنل رول ادا کرنے کا تھا۔ مگر یہاں جاپان اپنے آپ کو غیر مستعد پارہا ہے : But Japan finds itself unprepared for it. اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کسی قوم کو زیادہ سے زیادہ جو چیز دے سکتی ہے وہ بینک بیلنس ہے۔ لیکن محض اقتصادی ترقی کے ذریعہ کوئی قوم عالمی رول ادا کرنے کے قابل نہیں بنتی۔ اس کے لئے مزید کوئی طاقت درکار ہے۔ میں نے کہا کہ جاپان کی حیثیت آج اقتصادی سپر پاور (economic superpower) کی ہے ۔ اور امریکہ کی حیثیت عسکری سپر پاور (military superpower) کی ۔ امریکہ کی فوجی طاقت نے اس کو عالمی حیثیت دے دی ہے ۔ جاپان کے لئے اس کا موقع نہیں کہ وہ فوجی میدان میں امریکہ کا حریف بن سکے ۔ تاہم ایک زیادہ اہم میدان ابھی خالی ہے۔ اور وہ نظریاتی سپر پاور (ideological superpower) بننے کا میدان ہے۔ اس میدان میں عمل کر کے جاپان اپنے آپ کو عالمی لیڈر بنا سکتا ہے۔ مذکورہ جاپانی کے لئے یہ بات نئی تھی۔ اس نے پوچھا کہ جاپان کس طرح نظریاتی سپر پاور بن سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں میں نے مختصر طور پر اسلام کی اہمیت بتائی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page