Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

سفرِ امریکہ ۶ یہاں سنگاپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بزنس منیجر تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ جاپان کس لئے آئے؟ انھوں نے کہا کہ صرف سیکھنے کے لئے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ جاپان کی کس بات نے آپ کو اتنا متاثر کیا کہ آپ صرف سیکھنے کے لئے یہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ میں جاپان کی صنعتی ترقی کے بارہ میں بہت کچھ سنتا اور پڑھتا تھا۔ مگر ایک واقعہ میں نے پڑھا۔ اس نے مجھے تڑپا دیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھ کو جاپان جا کر وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ واقعہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنا بریف کیس کھولا اور ایک انگریزی میگزین نکالا۔ اس میں حسبِ ذیل واقعہ چھپا ہوا تھا: سویڈن کے ایک ماہر کا قصہ بتایا جاتا ہے۔ وہ جاپان گیا تاکہ انتظام میں کارکنوں کی شرکت کا مطالعہ کرے۔ ایک کارخانہ میں وہ ایک کارکن سے بات کر رہا تھا۔ وہ اس وقت بہت متاثر ہوا جب اس نے دیکھا کہ اس کے ایک سوال پر جاپانی کارکن بے اختیار رو پڑا۔ جب اس کو کارکن کی طرف سے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تو اس نے سپر وائزر سے اس کی بابت پوچھا۔ سپر وائزر نے کہا کہ جو کچھ آپ نے اس سے کہا ہے وہ سب مجھے بتائیے۔ پورا قصہ سننے کے بعد سپر وائزر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے کارکن کو بتایا کہ تمہاری کمپنی آجکل برآمدی فرمائشوں کی تعمیل پہلے کی طرح نہیں کر رہی ہے تو وہ سخت پریشان ہوگیا۔ اس نے کہا کہ جاپانی کارکن کو اس کا بہت زیادہ خیال رہتا ہے کہ اگر برآمد گھٹ گئی تو اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page