سفرِ امریکہ ۶
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
پوری قوم کا نقصان ہوگا۔ اس کے خیال کے مطابق اس کو جا پانی کارکردگی کا معیار گھٹنے سے تعبیر کیا جائے گا۔ اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ جاپان کا ایک انسان اپنی قوم کے بارہ میں اتنا حساس ہے کہ وہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کی کسی کو تاہی سے اس کی قوم پر حرف آئے۔ مگر موجودہ مسلمان اپنے دین کے بارے میں اس طرح حساس نہیں۔ وہ مسلسل غلطیاں اور نادانیاں کر رہے ہیں۔ مگر یہ احساس ان کو نہیں پڑ پاتا کہ اس کی وجہ سے ان کا دین دوسری قوموں کی نظر میں بد نام ہو جائے گا۔ مجھے اپنے بچپن کے زمانہ کی بات یاد ہے۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کا زمانہ تھا۔ اس وقت ”میدان جاپان “ کے معنی ہوتے تھے معمولی اور کمزور چیز۔ اس زمانہ میں عام طور پر کھلونے وغیرہ جاپان سے آتے تھے اور سستی قیمت پر بازاروں میں بکتے تھے۔ یہاں میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ جاپان اپنے قدیم دور سے جدید دور تک کیسے پہنچا جب کہ ماضی کے برعکس ” میدان جاپان “ کا لفظ معیاری مصنوعات کا عنوان بن گیا ہے۔ بعض جاپانیوں سے بات کرنے کے بعد ایک بالکل نئی چیز میرے علم میں آئی۔ وہ تعلیم کے سال (education years) کا لفظ تھا۔ معلوم ہوا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان میں تعمیرِ شعور کی ایک مستقل تحریک چل پڑی اور اس نے قومی تحریک (national movement) کی صورت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا مقصد تصور (outlook) کو بدلنا تھا۔ تعلیم کے سال (ایجوکیشن ایرس) کا مرحلہ (fifties & sixties ،ففتینات اور سٹینات) کے دوران تقریباً ۱۵ سال تک جاری رہا۔ قوم کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کے بعد دوبارہ تقریباً ۱۵ سال تک حصول معیار (pursuit of quality) کا دور گزرارہا ہے۔ یہ دوسرا دور ستینات اور سبعینات (sixties & seventies) کے زمانہ میں جاری رہا۔ اس طرح تیس سالہ فکری جدوجہد کا نتیجہ وہ عملی ترقی ہے جو آج جاپان کو حاصل ہوئی ہے۔ جاپان نے تعمیر شعور کے محاذ پر ۳۰ سال صرف کئے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader