Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

لاس اینجلس ٹائمز (Los Angeles Times Syndicate) میں چھپا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان ۱۹۶۰ء میں جس سیکورٹی ٹریٹی معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، وہ اب مکمل طور پر فرسودہ (obsolete) ہو چکا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت جاپان نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ وہ جاپان میں مقیم امریکی فوجوں کا ۷۰ فیصد خرچ ادا کرے گا۔ مگر اب بدلے ہوئے حالات میں ہم کو نہ اپنے دفاع کے لئے امریکی فوجوں کی ضرورت ہے اور نہ اس کا خرچ ادا کرنے کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ جاپان اپنے مائیکرو چپ کارڈ کو استعمال کرنے پر غور کرے تاکہ امریکہ کو ہوش میں لایا جا سکے : It is time for Japan to consider the possibility of playing our microchip اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ہندوستان میں اور جاپان میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ ہندوستان میں ہمارے لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ کمیونل کارڈ، ہندو کارڈ، مسلم کارڈ کھیلتے ہیں۔ مگر جاپان کا لیڈر اپنے سیاسی مقصد کے لئے یہی بھی یہ سوچ رہا ہے کہ اس کو مائیکرو چپ کارڈ کھیلنا چاہئے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان میں تخریبی سیاست چلائی جاتی ہے اور جاپان میں تعمیری سیاست ۔ جدید صنعتی انقلاب نے تمام پرانے معانی کو بالکل بدل دیا ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۹۰ء میں شری لال کرشن ایڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک ۱۰ ہزار میل کی جورتھ یا یاترا کی، اس رتھ کا نام " رام رتھ " رکھا گیا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ " جاپان رتھ " تھا، کیوں کہ وہ رام کی قدیم بیل گاڑی کی نقل نہ تھا۔ یہ دراصل ایک ائیر کنڈیشینڈ جاپانی وین تھی جس کو اوپر سے رتھ کی صورت دیدی گئی تھی۔ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے فضا میں بادل کے ٹکڑے کو چلتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ جہاں چاہے جاکر برس ، تیرا خراج میرے ہی پاس آئے گا ( أمطري حيث شئت فسياتيني خراجك ) آج کی ترقی یافتہ تو میں اگر دنیا والوں سے کہیں کہ تم خواہ جو بھی سرگرمی دکھاؤ، اس کا مالی فائدہ ہم کو ہی ملے گا تو غلط نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page