Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

سفرِ امریکہ ۶

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

پرانا لطیفہ ہے ”عقل بڑی کہ بھینس“ مگر موجودہ زمانہ میں جاپان نے اس میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔ اس نے عملی طور پر ثابت کیا ہے ”علم بڑا نہ کہ ہتھیار“۔ اس نے اس کو ایک ٹھوس حقیقت بنا کر دکھا دیا ہے۔ ایک امریکی مبصر کے الفاظ میں جاپان نے ثابت کیا ہے کہ آتشیں طاقت (firepower) کے مقابلہ میں دماغی طاقت (brainpower) زیادہ بڑی اور زیادہ موثر ہے۔ جاپان نے یہ برتر طاقت علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ جاپان نے اپنی علمی ترقی کے ذریعہ ٹکنالوجی میں نئی بلندیاں حاصل کیں۔ مثال کے طور پر سب سے اعلیٰ سیمی کنڈکٹر جاپان میں تیار ہوتا ہے جو کہ کمپیوٹر کی صحت کارکردگی کی ضمانت ہے۔ جاپان کی دو اعلیٰ شخصیتوں کی تیار کی ہوئی ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام معنی خیز طور پر یہ ہے جاپان جو کہہ سکتا ہے کہ نہیں (The Japan that Can Say No) اس کے مصنفین نے جاپان کو مشورہ دیا ہے کہ امریکہ اگر جاپان سے اپنے مطالبات بند نہیں کرتا تو جاپان کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ وہ اپنے سیمی کنکٹر کی جانکاری (expertise) سوویت روس کو دیدے گا۔ اس پر کچھ امریکی مبصرین نے لکھا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت امریکہ کے لئے ”پرل ہاربر“ کے برابر ہے۔ جاپان نے اپنی موجودہ صنعتی اور اقتصادی ترقی علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ ایک امریکی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بین اقوام سطح پر امریکی طلبہ بیس صنعتی قوموں میں دسویں نمبر ہیں۔ جاپانیوں کی اسی بڑھی ہوئی معیار پسندی کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کو بے نقص (zero defect) کے معیار تک پہنچا دیا۔ جاپانیوں کے اس مزاج کے متعلق میں نے ایک آرٹیکل پڑھا اس میں لکھا تھا کہ زیرو ڈیفیکٹ کے معاملہ میں ان کا شوق اتنا بڑھا ہوا ہے کہ معمولی جاپانی کارکن بھی اپنی کارکردگی کا تقابل جرمنوں اور امریکیوں سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر دوسرے لوگ پرزوں کو فی ملین کی سطح سے جانچتے ہیں تو جاپانی یہ چاہتا ہے کہ اس کو فی بلین کی سطح سے جانچے : So relentless are they in their zeal for 'zero defect', that even the ordinary Japanese workers are said to compare their performance with that of the Germans and Americans: If, for instance, others control parts at the per-million level, the Japanese want to do it at the per- billion level.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page