سفرِ امریکہ ۶
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
جاپانی رہنماؤں نے اپنے افراد کے اندر معیاری پسندی کا ذہن پیدا کیا۔ اس کے برعکس موجودہ مسلم رہنما اپنی قوم کے افراد میں شکایت پسندی کا ذہن پیدا کرتے رہے ہیں۔ جاپانیوں کی سوچ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اگر اچھا کام کرکے آگے بڑھے ہیں تو ہم اور زیادہ اچھا کام کرکے ان سے آگے نکل جائیں۔ جب کہ نام نہاد رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کے اندر جو ذہن پیدا کیا ہے وہ یہ کہ دوسرے لوگ جس چیز کو لیاقت کی بنیاد پر حاصل کر رہے ہیں۔ اس کو تم مطالبہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کی کوشش کرو، اور جب مطالبہ اور ڈیما نڈ کی بنیاد پر وہ چیز تم کو ملے تو اس کو تعصب کا نتیجہ بتا کر شکایت اور احتجاج کا لفظی طوفان جاری کر دو۔ ٹوکیو میں ۱۹۰۸ میں اسکول آف فارن لینگویجز قائم ہوا۔ اس میں اردو زبان کا بھی ایک شعبہ تھا۔ اس کے تحت غالباً پہلی بار پانچ جاپانی طالب علموں نے اردو پڑھنا شروع کیا۔ ۱۹۱۱ میں اس شعبہ کو ترقی دی گئی تو طلبہ کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ ۱۹۰۹ میں مولانا برکت اللہ صاحب بھوپالی اس شعبہ کے استاد مقرر ہوئے۔ وہ مولانا محمود حسن صاحب کی تحریک آزادی کے پروگرام کے تحت انگلینڈ اور امریکہ ہوتے ہوئے جاپان پہنچے تھے۔ اور یہاں ٹوکیو کے مذکورہ اسکول میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ نہایت متحرک آدمی تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ قیام میں ٹوکیو میں اسلامک فریٹرنٹی (Islamic Fraternity) کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور اسی نام سے ایک انگریزی اخبار بھی جاری کیا۔ یہ اخبار جلد ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا پرچہ الاسلام (Al-Islam) کے نام سے نکالا ۔ ان پر چوں کا نام اگر چہ اسلامی تھا مگر عملاً یہ دونوں پر چے سیاسی پر چے تھے۔ حکومت جاپان کو مولانا برکت اللہ بھوپالی کی سیاسی سرگرمیاں پسند نہیں آئیں ۔ ۱۹۱۴ میں ان کو اسکول کی ملازمت سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ جاپان سے واپس چلے گئے۔ ۸۰ سال پہلے مولانا برکت اللہ بھوپالی کو جاپان میں کام کے جو مواقع ملے تھے اس کو اگر وہ اشاعت اسلام کے لئے استعمال کرتے تو آج شاید جاپان کی تاریخ دوسری تاریخ ہوتی۔ موجودہ زمانہ میں زبان ، جغرافیہ ، تاریخ ، کلچر وغیرہ موضوعات کے تحت ساری دنیا میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader