Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر طرابلس (لیبیا) میں ۲۴ - ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء کو ایک انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کی دعوت کے مطابق ایک سفر ہوا۔ سفر کے کچھ تاثرات یہاں درج کئے جاتے ہیں۔ ۲۴ ستمبر کو صبح ساڑھے تین بجے گھر سے روانگی ہوئی۔ فجر کی نماز دہلی ایئر پورٹ پر پڑھی۔ ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اخوانی مزاج کے تھے۔ اسلامی جہاد پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلامی جہاد (یعنی قتال) صرف دوائی ہے۔ اسلام کا اصل اقدام دعوت ہے نہ کہ قتال۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ البتہ ہمارا کہنا ہے کہ دعوت کی راہ میں جب رکاوٹ ڈالی جائے تو رکاوٹ کو ختم کرنے کے لئے قتال کیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ ”دعوت کی راہ میں رکاوٹ کا نظریہ دراصل موجودہ زمانہ کے سیاست پسند مفکرین کا پیدا کردہ ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک اسلامی دعوت کا مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ لوگ جب اسلام کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے نافذ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے حکمران اس انقلابی مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چنانچہ وہ ان سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ رکاوٹ کو دور کرکے اسلامی قانون کی حکومت قائم کریں۔ میں نے کہا کہ اسلامی دعوت کا یہ تصور ہی سرے سے غلط ہے۔ اسلامی دعوت دراصل توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار ہے۔ اور اعلان توحید اور انذار آخرت کے کام میں، کم از کم موجودہ زمانہ میں کسی رکاوٹ کا سوال ہی نہیں۔ ہندوستان میں بائیں چلو (خذذات الیسار) کا اصول ہے اور عرب ملکوں میں دائیں چلو (خذذات الیمین) کا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ " دائیں چلو" کا اصول اسلام کا اصول ہے۔ اس لئے میں ہندوستان کی سڑکوں پر دائیں چلوں گا تو ایسے شخص کو ہندوستان کا نظام ایک رکاوٹ معلوم ہوگا ۔ وہ کہے گا کہ ہمیں چاہئے کہ لڑ کر اس رکاوٹ کو دور کریں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ ایک احمقانہ بات ہے۔ بورڈنگ کارڈ لینے کے لئے ایئر لائن کی کھڑکی پر کھڑا ہوا تو میں لائن میں سب سے پیچھے تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page