ایک سفر
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
اچانک اندر سے ایک عرب نوجوان باہر آیا۔ اس نے میرا ٹکٹ لیا اور اندر جا کر ضروری کارروائی کی اور بورڈنگ پاس لاکر مجھے دے دیا۔ اسی کے ساتھ اس نے ایک خوب صورت چھپا ہوا کارڈ مزید دیا، جو ضیافت کے لئے تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا : Royal Jordanian is pleased to invite you to avail the facility of Baurya Lounge in Departure Hall; Thank You. اس تجربہ کے بعد دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ کاش قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہو کہ میں عجز اور دل فگاری کی تصویر بنا ہو ا سب سے پیچھے کھڑا ہوں اور اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیج دیں کہ میرے اس عاجز بندے کے پاس جاؤ اور اس کے داخلہ رحمت کا کارڈ خود اس کے پاس پہنچادو۔ دہلی ایئر پورٹ کے اندر میں امیگریشن (Immigration) کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ میرے قریب کی دوسری کھڑکی پر شور سنائی دیا۔ میں نے دیکھا کہ کھڑکی پر بیٹھے ہوئے پولیس کے آدمی سے دو مسافروں کا جھگڑا ہورہا تھا۔ دوسری طرف میری کھڑکی پر بھی ایک وردی پوش آدمی تھا۔ مگر وہ نہایت شریفانہ انداز میں مسافروں کا کام انجام دے رہا تھا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا : سرب جیت سنگھ۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ آدمیوں کو فرقوں اور گرو ہوں کی صورت میں دیکھتے ہیں وہ کتنی بڑی غلطی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے سطحی متسائیدین ہر فساد کے موقع پر آنکھ بند کر کے "پولیس" کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا کہ ہر وہ شخص جس نے پولیس کی وردی پہن لی، وہ ایک ظالم گروہ کا فرد بن گیا۔ رائے قائم کرنے کا یہ طریقہ حد درجہ ظالمانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق ہوتا ہے۔ انسانوں کو ان کے کردار کے اعتبار سے جاننا چاہئے نہ کہ فرقوں اور گروہوں کے اعتبار سے۔ دہلی سے اردن ایرویز کی فلائٹ نمبر ۱۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایئر لائنر کا انگریزی میگزین رائل ونگ (Hemisphere) پڑھا۔ حسبِ معمول اس میں ہوٹلوں کے شاندار با تصویر اشتہارات تھے۔ عنوان تھا : The Finest collection of Hotels in the Middle East. سر سبز و شاداب ماحول میں خوب صورت اور شاندار عمارتیں دیکھنے میں بہت پرکشش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader