Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم ہوئیں ۔ میں نے سوچا کہ میں بار بار اسی قسم کے ہوٹلوں میں ٹھہرا ہوں۔ مگر جب وہاں ٹھہرتا ہوں تو وہاں کا قیام اور وہاں کی زندگی میں میرے لئے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ خیال آیا کہ ان تصویروں کے پرکشش ہونے کا سبب یہ ہے کہ ان میں ہوٹلوں کا ایک پہلو حذف ہوگیا ہے۔ وہ ان کا تعب اور حزن ہے۔ قرآن میں اہل جنت کی زبان سے کہلایا گیا ہے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے حزن کو ختم کر دیا (آذھب عنا الحزن)، دنیا کا یہ تجربہ آخرت کے معاملہ کا ایک تعارف ہے۔ دنیا میں حزن تصویر میں حذف ہو جاتا ہے مگر حقیقت میں وہ موجود رہتا ہے۔ آخرت میں خدا اپنے کمال قدرت سے خود وحقیقت کے اندر سے حزن کو حذف کر دے گا۔ اس کے بعد خدا کی دنیا ابدی خوشیوں کی لازوال آرام گاہ بن جائے گی۔ ۲۲ ستمبر کو دوپہر بعد کا وقت تھا۔ باہر سورج کی روشنی پوری طرح فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہمارا جہاز اردن کے صحرائی حصہ کے اوپر ۳۵۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑ رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر کی طرف نظر ڈالی تو نیچے خالص صحرائی منظر تھا۔ دور دور تک کہیں کوئی آبادی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہر طرف غیر آباد رتیلے میدانوں کا منظر تھا۔ اس وقت میرے ہاتھ میں اردن ایئر لائنز کا عربی مجلہ "الاجنحہ" تھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا: المياه في الوطن العربي والأردن اس میں عرب دنیا کے آبشار (الشلالات) دکھائے گئے تھے۔ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی رنگیں تصویروں میں نظر آ رہا تھا کہ پہاڑوں کے اوپر سے پانی کے بڑے بڑے دھارے آبشار بن کر نیچے گر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ خدا کی قدرت بھی کیسی عجیب ہے۔ زمین پر ایک طرف خشک صحراؤں میں ریت اُڑ رہی ہے اور دوسری طرف اسی زمین میں پانی کے دریا بہہ رہے ہیں۔ اس بار لیبیا کا سفر ہنگامی حالات میں ہوا۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت کے خلاف عراق کے فوجی اقدام نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ہر طرف جنگ کی باتیں ہورہی ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ "لیبیا" کا لفظ جدید دور کی جنگی طاقت کو بھی بتاتا ہے اور اس کی کمزوری کو بھی۔ امریکی جنرل آجکل صدام حسین کو بم کا نشانہ بنانے کی بات کر رہے ہیں (ہندوستان ٹائمز ۷ ستمبر ۱۹۹۰) ۱۹۸۶ میں اسی طرح امریکی بمباروں نے لیبی حکمراں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ ایک طرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page