ایک سفر
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک فوجی افسر فضائی راستہ سے دشمن کے ملک میں داخل ہو جائے۔ اور وہاں اپنے مطلوبہ نشانہ پر بم گر اکر محفوظ طور پر واپس چلا آئے۔ اسی کے ساتھ یہی واقعہ انسان کی محدودیت کو بھی بتا رہا ہے۔ یعنی ساری مشینی ترقیوں کے باوجود اب بھی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ نتیجہ کو صد فی صدا اپنے حق میں یقینی بنا سکے۔ ٹائم (۱۰ ستمبر ۱۹۹۰) نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا تھا کہ امریکہ کے فوجی جنرل صدام حسین کے خلاف جراحی ضرب کی بات کر رہے ہیں لیکن جراحی ضرب عام طور پر غلط نشانوں پر مارتی ہے، جیسا کہ ۱۹۸۶ میں لیبیا کے خلاف حملہ میں ہوا۔ اس حملہ کا نشانہ معمر قذافی تھے ۔ مگر عملاً جو ہوا وہ یہ کہ فرانسیسی سفارت خانہ تباہ ہو گیا اور قذافی کی لڑکی مر گئی: Generals like to talk of "surgical strikes", but surgical strikes usually hit the wrong targets - like the misguided air raid on Libya in 1986 that wrecked the French embassy and killed Colonel Gaddafi's daughter (p. 56). دہلی سے روانہ ہو کر ہمارا جہاز پاکستان، افغانستان، ایران اور عراق کے اوپر سے اڑتا ہوا دو پہر بعد عمان کے ایر پورٹ پر اترا گیا۔ اس سے پہلے میں عمان سے دو بار گزر چکا ہوں، مگر اس بار عمان ایر پورٹ پر کچھ بھیڈ کا سا منظر دکھائی دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے یہاں بہت کم آدمی نظر آتے تھے۔ خلیج کے موجودہ حالات غالباً اس کا سبب ہیں۔ عمان کا لفظ آجکل خبروں میں بہت زیادہ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۲ اگست کو کویت پر عراق کے حملہ کے بعد جب لوگ بھاگنا شروع ہوئے تو ان کے لئے اردن کی سرحد سب سے زیادہ کھلی ہوئی تھی۔ چنانچہ بہت بڑی تعداد میں لوگ بھاگ بھاگ کر اردن پہنچ گئے۔ حملہ کے وقت تقریباً ۸۰ ہزار ہندوستانی کویت میں تھے ۔ ان کی بڑی تعداد بھاگ کر اردن میں داخل ہو گئی۔ یہاں سے انہیں بسوں کے ذریعہ عمان لایا گیا۔ تازہ اطلاع کے مطابق ، بوقت تحریر تقریباً دس ہزار ہندوستانی عمان میں رہ گئے ہیں۔ بقیہ کو عمان سے بمبئی پہنچایا گیا ہے۔ یہ لوگ عمان سے ۱۱۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ازرق ریفیوجی کیمپ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس مقصد کے لئے ائیر انڈیا اور اقوام متحدہ کے جہاز مشترکہ طور پر مصروف رہے۔ ابتداً روزانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader