Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

جگہ جگہ لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سنگِ مرمر کا ایک مجسمہ مائیکل اینجلو کا بنایا ہوا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں مریم کو بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اور ان کے دونوں پیروں پر ایک دبلا اور مردہ جسم بیچاری کی حالت میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کا مردہ جسم ہے جس کو صلیب دئے جانے کے بعد حضرت مریم نے اٹھا لیا تھا۔ مزعومہ خدا کی یہ بے کس تصویر بھی کیسی عجیب ہے۔ ویٹیکن کو دیکھ کر یہ تاثر ذہن میں نہیں آتا کہ مذہب کسی خداد پر مبنی نظریہ کا نام ہے۔ اس کے برعکس اس کو دیکھنے سے یہ تاثر ذہن میں آتا ہے کہ مذہب ایک ایسا نظریہ یا عقیدہ ہے جو انسانی شخصیتوں کے تقدس پر قائم ہے۔ ویٹیکن (Vatican) روم کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ یہاں سینٹ پیٹر (پیٹرس) کی قبر ہے۔ اور پوپ کی قیام گاہ ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کیتھولک عیسائیوں کی کئی مقدس اور متبرک چیزیں یہاں کے میوزیم میں رکھی ہوئی ہیں۔ ویٹیکن کا رقبہ صرف ۱۰۸ مربع ایکڑ ہے۔ اس کے باشندوں کی مجموعی تعداد تقریبًا ایک ہزار ہے۔ مگر اس چھوٹی سی دنیا میں ایک مکمل ریاست قائم ہے۔ یہ مذہبی ریاست قانونی طور پر ۱۹۲۹ میں موسولینی کے زمانہ میں قائم ہوئی۔ جس معاہدہ کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا اس کو معاہدہ لیتران (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت پوپ یا ویٹیکن حکومت کو اندرونی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ گویا ریاست کے اندر ایک ریاست ہے تاہم دہ اس کی پابند ہے کہ وہ اٹلی کی حکومت کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ ۱۹۲۹ کے معاہدہ کو دیکھئے تو بظاہر محسوس ہوگا کہ ویٹیکن اپنے آپ کو بہت چھوٹی حیثیت پر راضی کر رہا ہے۔ ویٹیکن کا رقبہ ایک مربع کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ جب کہ اٹلی کا رقبہ 301,262 مربع کلومیٹر ہے۔ گویا جغرافی معنوں میں ویٹیکن کو اٹلی کا ایک فیصد سے بھی کم رقبہ حاصل ہے۔ مگر حقائق کبھی الفاظ کے پابند نہیں ہوتے۔ چنانچہ ویٹیکن نے ایک اور پہلو سے اپنی کمی کی تلافی کرلی۔ اٹلی کی 99 فیصد آبادی عیسائی ہے۔ اس اعتبار سے اٹلی کے تمام باشندوں نیز تمام دنیا کے عیسائیوں کے دلوں تک اس کا رقبہ پھیلا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اپنے انتہائی چھوٹے رقبے کے باوجود ویٹیکن کو عملاً اٹلی سے بھی زیادہ بڑی حیثیت حاصل ہے۔ کیوں کہ وہ (ویٹیکن) مسیحی مذہب کی سب سے بڑی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page