Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

کرارہی ہے۔ اس نے مسجد کے اندر داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ مرکز کے ذمہ داروں نے ہم کو تحریریں اجازت دی۔ اس کے بعد ہمارا تین آدمیوں کا قافلہ اس کے اندر داخل ہو سکا۔ یہ بہت وسیع اور بالکل جدید طرز کی مسجد ہے۔ اس سے متصل عمارتوں میں اسلامی مرکز کے دفاتر قائم ہوں گے۔ رقبہ بھی کافی بڑا ہے۔ حکومت اٹلی نے جب یہاں مسجد اور اسلامی مرکز قائم کرنے کی اجازت دی اس وقت یہاں کوئی سڑک نہ تھی جو اس کو بقیہ شہر سے جوڑ سکے۔ یہاں کے قانون کے مطابق، اس کے بعد نہایت عمدہ سڑک بنائی گئی جو مسجد سے متصل گزرتی ہے۔ اس سڑک کا نام مسجد روڈ (Viale Della Moschea) ہے۔ ۱۹۲۹ء میں مسولینی نے ویٹیکن کے لئے لیتیران معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ اس کے بعد ۱۹۳۱ء میں اٹلی میں مقیم افریقی مسلمانوں کا ایک وفد مسولینی سے ملا اور اس سے کہا کہ ہم کو روم میں ایک مسجد بنانے کی اجازت دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ مسولینی نے اس کا جواب یہ دیا کہ روم عیسائیوں کا مقدس شہر ہے جس طرح مکہ مسلمانوں کا مقدس شہر ہے۔ روم میں مسجد بننا اسی وقت ممکن ہے جب کہ مکہ میں بھی ایک کیتھولک چرچ بن کر کھڑا ہو جائے ۔ تاہم روم کے مسلمانوں نے کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عرب پٹرول کی طاقت ظاہر کر دی۔ وہ دور آگیا جب کہ امریکی میگزین نیوز ویک (۱۸ فروری ۱۹۷۴ء) نے لکھا کہ قدیم زمانہ میں یہ کہا جاتا تھا کہ تمام سڑکیں روم کو جاتی ہیں۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج تمام سڑکیں ریاض کو جارہی ہیں : (All roads lead to Riyadh) اٹلی کو عرب پٹرول کی ضرورت پیش آ گئی۔ اس افادی منطق نے اٹلی کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ دو طرفہ گفت و شنید کے دوران ۱۹۷۳ء میں سعودی حکمران شاہ فیصل نے اٹلی کی حکومت سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی کہ وہ روم میں مسجد بنانے کی اجازت دے دے گی۔ اسی کے ساتھ پوپ پال ششم نے بھی یقین دلایا کہ وہ مسجد کے پراجیکٹ میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس کے بعد سائیٹ کی تلاش ہوئی۔ آخر کار ایک مقام پر ۳ ہزار مربع میٹر کا رقبہ مسجد اور اسلامک سنٹر کے لئے مختص کر دیا گیا اور ۱۹۸۳ء میں وہاں کام شروع ہو گیا۔ اندازہ ہے کہ اس کی تکمیل پر پچاس ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اٹلی میں تقریباً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page