ایک سفر
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
چار لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ مسجد کے اندر دو ہزار آدمیوں کے لئے نماز پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔ روم میں ایک ہزار عیسائی چرچ اور یہودیوں کے آٹھ سینا گاگ ہیں۔ اب ایک باقاعدہ مسجد بھی وہاں تعمیر ہو گئی ہے۔ دوسری مسجد میلان میں ہے۔ ۱۹۳۰ء میں جو چیز بظاہر نا ممکن تھی وہ آج واقعہ بن کر شاندار طور پر روم کے اندر کھڑی ہوئی ہے۔ خدا کی دنیا میں ہر نا ممکن کو ممکن بنانے کے مواقع ہیں۔ بشرطیکہ سنت الہی کے مطابق اس کا انتظام کیا جائے۔ روم میں میرے رہنما ڈاکٹر لیونارڈ د تھے ۔ وہ پختہ عیسائی ہیں اور ویٹییکن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے انتہائی ذوق وشوق کے ساتھ مجھ کو روم کی سیاحت کرائی۔ انھوں نے جس دلچسپی کے ساتھ مجھ کو ویٹییکن دکھایا ٹھیک اسی دلچسپی کے ساتھ انھوں نے روم کی مسجد اور اسلامک سنٹر کو بھی دکھایا۔ میرے تجربہ کے مطابق مسلمانوں کے اندر اس قسم کا کردار موجود نہیں۔ اور اس کا واحد سبب دعوتی مزاج کا فقدان ہے۔ داعی اور مبلغ عین اپنے مزاج کے تحت دوسروں میں دلچسپی لیتا ہے۔ وہ دوسرے کی پوری رعایت کرتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ غیر داعی کا مزاج اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ داعی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جانتا ہے اور غیر داعی صرف اپنے آپ کو ۔ روم میں اگرچہ میری ملاقات کسی اردو داں سے نہیں ہوئی۔ تاہم مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں اردو داں عیسائی موجود ہیں۔ انھوں نے خود اٹلی میں اردو کی تعلیم حاصل کی ہے۔ مسیحی چرچ مکمل طور پر ایک تبلیغ اور پینیڈ ادارہ ہے۔ اس کے یہاں ہر قسم کی تبلیغی سرگرمیاں جدید ترین معیار پر پائی جاتی ہیں۔ اسی میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آدمیوں کو تمام دنیا کی زبانیں پڑھلاتے ہیں۔ مسیحی چرچ کے پاس کثیر تعداد میں ایسے قابل افراد موجود ہیں جو ہر زبان میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مالٹا کی کانفرنس میں کئی ایسے پادری تھے جو روانی کے ساتھ عربی زبان بولتے تھے ۔ حتی کہ اپنے حلیہ، اپنے لباس اور اپنی عادات میں بھی وہ عرب مسلمان نظر آتے تھے۔ وہ السلام علیکم، الحمد لله، ماشاء اللہ وغیرہ الفاظ اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ایک مذہبی مسلمان بولتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں نیپلز (اٹلی) میں مسیحی حضرات نے ایک ادارہ قائم کیا۔ ۲ اپریل ۱۷۳۲ء کو پوپ کلیمنٹ دو از دہم نے اس ادارہ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے جنوبی اٹلی میں اس کے لئے ایک جائیداد وقف کر دی۔ اس کے بعد اس میں مزید اوقات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader