Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا جس طرح آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔ حالاں کہ باعتبار حقیقت نہ سمندر نیلے رنگ کا ہے اور نہ آسمان نیلے رنگ کا۔ یہ صرف ایک گھنٹہ کا مختصر سفر تھا۔ ہم لوگ جہاز میں آکر بیٹھے۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی چیزیں دیکھیں۔ اتنے میں ناشتہ آگیا۔ ناشتہ سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ "اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیں" کا اعلان ہونے لگا۔ پھر اعلان ہوا کہ ہم جلد ہی مالٹا کی زمین پر اترنے والے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ سفر آدمی کی دنیوی زندگی کا ایک علامتی تعارف ہے۔ آدمی دنیا میں آتا ہے۔ وہ بچہ سے بڑا ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ کمانے اور دنیا کی تعمیر کے کام میں مصروف ہوتا ہے۔ وہ اپنا گھر بناتا ہے۔ ابھی اس کے گھر کی دیواروں کی پینٹنگ ہو رہی ہوتی ہے کہ "کوس رحلت بکوفبت دست اجل " کا وقت آ جاتا ہے۔ دنیا میں زندگی کا لمحہ کتنا مختصر ہے۔ اور کتنی لمبی مدت تک اس مختصر لمحہ کی قیمت انسان کو ادا کرنا ہے۔ ۷ اکتوبر کی شام کو ہم مالٹا ایر پورٹ پر اتر گئے۔ جہاز سے باہر نکلے تو وہاں کانفرنس کے نمائندے ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انھوں نے ہم کو ائیر پورٹ کے لاؤنج میں بٹھا دیا ۔ ہمارے پاس مالٹا کا ویز نہیں تھا۔ اس لئے یہاں ویز ابھی لینا تھا۔ ان لوگوں نے ہمارا پاسپورٹ لیا اور اس کے بعد ویزا کا اندراج اور دوسری ضروری کارروائیوں کے لئے وہ ہمارا بدل بن گئے۔ یہ بظاہر سادہ سی بات ہے۔ ہر کانفرنس میں اسی طرح مہمانوں کی آمد پر ان کا استقبال اور ان کا تعاون کیا جاتا ہے۔ مگر میرا ذہن یہ سوچنے لگا کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ایسا ممکن نہیں تھا کہ ایک شخص ہندوستان سے روانہ ہو اور لمبی مدت طے کرنے کے بعد جب وہ مالٹا پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو ہر چیز کی ممکن اطلاع ہو اور وہ عین وقت پر اس کی مدد کے لئے وہاں موجود ہوں۔ مگر آج جب ایک شخص غیر ملک میں اترتا ہے تو وہاں اس کے میزبان کو آمد کا وقت اور تاریخ اور سواری وغیرہ کی اطلاعات انتہائی صحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں۔ یہ " معجزہ " مواصلات (کمیونیکیشن) کی ترقی کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ جدید مواصلات اللہ تعالی کی عجیب نعمت ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کو یاد دلاتے ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ بیرونی دنیا کے سفر کرتے ہیں تو وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میں فلاں مقام پر پہنچا تو وہاں اتنے آدمی میرے استقبال کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page