ایک سفر
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
لے موجود تھے۔ ایک واقعہ جس کو حقیقۃً خدا کی گلوری کے خانہ میں ڈالنا چاہئے اس کو وہ ذاتی گلوری کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو جانیں مگر وہ خداوند ذو الجلال کے بارہ میں بے خبر ہوں۔ میں مالٹا ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاونج میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک خوش پوش نوجوان آئے اور میری کرسی کے قریب فرش پر عقیدت مندانہ انداز میں بیٹھ گئے۔ انھوں نے اپنا نام مارکونی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب گا ڈارائٹرز اور دوسری کئی انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان کتابوں نے مجھ کو بہت متاثر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ روم اور مالٹا میں بہت سے لوگ ہمارے مشن سے واقف ہیں اور ہماری کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ اس علاقہ میں الرسلہ مشن کو متعارف کرانے میں الجزائر یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد السلیمانی کا بہت بڑا دخل ہے۔ وہ عربی کے علاوہ فرانسیسی اور اطالوی زبانیں جانتے ہیں۔ کانفرنس کے منتظمین کا ہر کام اتنی منصوبہ بندی کے ساتھ ہو رہا ہے کہ ہم جب مالٹا ایئر پورٹ پر پہنچے تو اسی وقت ہم کو کانفرنس کا بیگ ، اس سے متعلق ضروری کاغذات اور مالٹا کے بارہ میں تعارفی لٹریچر سب کچھ ایئر پورٹ پر ہی دے دیا گیا۔ مالٹا میں میرا قیام حالی ڈے ان کے کمرہ نمبر ۲۰۱ میں تھا۔ مالٹا میں اہلِ اسلام کی ۲۲۰ سال تک حکومت تھی۔ یہاں کی زبان اور تہذیب پر عربوں کا غیر معمولی اثر ہے۔ مالٹی زبان میں پچاس فیصد سے زیادہ الفاظ عربی کے ہیں۔ اس کے بعد اطالوی اور انگریزی کے۔ مگر آج مالٹا مسلمانوں سے خالی ہے۔ عربی میں بطور مثل کہا جاتا ہے کہ فلانَ كَمَن يُؤذن فى مالطا یعنی فلاں شخص الٹا میں اذان دے رہا ہے جہاں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں۔ تاہم یہ مثل مجھے پسند نہیں آئی۔ اس میں دعوتی شعور کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایک عرب عالم سے میں نے کہا کہ اذان کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ دعوتی معنوں میں اس کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے۔ اذان میں حی علی الصلاۃ بھی کہا جاتا ہے اور حی علی الفلاح بھی۔ ایک کلمہ کا تعلق اگر ایمان قبول کرنے والوں سے ہے تو دوسرے کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنھوں نے ابھی ایمان قبول نہیں کیا۔ مسلمان ایک اذان سے واقف ہیں ، مگر وہ دوسری اذان سے واقف نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader