ایک سفر
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
مالٹا ہوٹل کے ایک دروازہ پر لکھا ہوا تھا: معذوروں کے لئے حمام (Handicap toilets) مغربی دنیا میں معذوروں کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کو ہر جگہ خصوصی توجہ کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر دل میں یہ احساس ابھر کہ خدایا، میں بھی عالم انسانی کا ایک معذور شخص ہوں۔ تو میرے ساتھ میرے عمل کے اعتبار سے نہیں بلکہ میرے عذر کے اعتبار سے معاملہ فرما۔ اپنی رحمت خاص سے میری بخشش فرمادے۔ مالٹا کا مسلم عہد مسلمانوں کے دورِ عروج میں تھا۔ اس لئے یہاں کی ہر چیز پر مسلم تہذیب کی گہری چھاپ اب تک موجود ہے۔ یہاں کے مکانات بیشتر مسلم اسپین کے طرز پر بنائے گئے ہیں۔ مقامات کے نام ابھی تک عربی میں ہیں۔ مثلاً اغار، رباط، سلیمہ، مدینہ وغیرہ۔ مگر قومی اسباب سے مسلمانوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے۔ مثلاً سیاحوں کے لئے تیار کئے ہوئے ایک پمفلٹ میں نپولین کے ذیل میں ”مالٹا میں نپولین کے دستوں کی آمد“ کا لفظ ہے، اور ترکوں کے ذیل میں ”ترک فوجوں کا الٹا پر حملہ“ کا لفظ درج کیا گیا ہے: MARSAXLOKK: The Turkish forces invaded Malta in 1565 from the shores of this village. Here also landed the troops of Napoleon to whom the knights surrendered in 1798. یہ انسان کا عام مزاج ہے کہ وہ اپنوں کے لئے ایک قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور غیروں کے لئے دوسرے قسم کے الفاظ۔ تاہم اس کو پڑھ کر مجھے لکھنے والوں پر کوئی غصہ نہیں آیا۔ کیوں کہ یہ بات موجودہ مسلمانوں میں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہے۔ آج مسلمانوں کے اکابر تک کا یہ حال ہے کہ ان کو جس شخص یا جس گروہ سے شکایت ہو جائے اس کے لئے ان کی زبان بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔ مالٹا جیسے چھوٹے اور دور دراز مقامات تاریخ کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب کہ دنیا میں عام طور پر مذہبی جبر کا دور دورہ تھا۔ لوگ حکومتوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لئے اس طرح کے مقامات پر پناہ لیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مسیحی بزرگ نے رومی پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لئے مالٹا میں پناہ لی تھی۔ مالٹا کے بارہ میں ایک تعارف پمفلٹ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ چرچ ابتداً ۱۷۴۱ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۱۶۴۹ء میں وہ دوبارہ بنایا گیا۔ یہ چرچ سینٹ اگاتھا سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رومی شہنشاہ ڈیئیس کی تعذیب سے بھاگ کر مالٹا آئے تھے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader