Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے تڑپتے تھے۔ اب ایک ہزار سال بعد جب اللہ نے راستے کھول دئے اور سفروں کو آسان کر دیا تو موجودہ مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ جہاں کوئی عبادت گزار نہ ہو وہاں آخر اذان دینے کی کیا ضرورت۔ ۸ اکتوبر کی سپہر کو میڈ ٹیرینین کانفرنس کے وسیع ہال میں کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ وزیر اعظم اٹلی، وزیر اعظم مالٹا، اور دوسرے لوگوں کی تقریریں ہوئیں ۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر میں کہا کہ مذہب کا نیا نام امن ہے: The new name of religion is peace "امن" بذات خود تو مذہب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ آج انسان ایک ایسے مذہب کی تلاش میں ہے جس کی تعلیمات پر امن زندگی کی طرف لے جانے والی ہوں۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ پچھلے تلوار کے زمانہ میں جنگ کا تعلق صرف فوجی میدان سے ہوتا تھا۔ مگر اب جدید ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود رہیں۔ آج جنگ کے معنی پوری انسانیت کی تباہی کے ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ "مسلح جد وجہد" کے ذریعہ اسلامی انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں وہ بیک وقت دونادانی کے شکار ہیں۔ وہ جدید انسان کو تشدد کا مذہب دینا چاہتے ہیں۔ جب کہ آج کا انسان امن کے سوا کسی اور مذہب کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگرا لفرض یہ حضرات دہ نو کی طاقت حاصل کر سکیں جس کے ذریعہ وہ موجودہ عالمی طاقتوں کو زیر کر کے زمین پر اسلامی اقتدار کا جھنڈا لہرائیں تو یہ ایک ایسی زمین ہو گی جہاں ان کے کارنامے کی داد دینے کے لئے کوئی انسان موجود نہ ہوگا۔ حتی کہ شاید وہ خود بھی نہ ہوں گے کہ اپنی انوکھی فتح اسلام کی تقریب مسرت منعقد کر سکیں۔ انٹرنیشنل کانفرنسوں کے عام رواج کے مطابق ، یہاں بھی "ہیڈ فون" کا انتظام تھا۔ بولنے والا اپنی زبان (مثلاً فرانسیسی یا اطالوی) میں بولتا تھا۔ اور سننے والا آلہ سماعت کے ذریعہ اس کو اپنی زبان ( مثلاً انگریزی یا عربی) میں سنتا تھا۔ اس عمل کے دوران ایک بار مجھے خیال آیا کہ متکلم کی بات کو براہ راست طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ متکلم کی زبان کو سامع بھی سمجھتا ہو۔ متکلم اور سامع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page