Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

الجزائر کے ڈاکٹر محمد السلیمانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی مذہبی تعلیمات کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔ اگر آپ کی انجیل میں یہ لکھا ہو کہ روم میں کسی غیر مذہب کا عبادت خانہ بنانے کی اجازت نہ دی جائے تو میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ انجیل کے اس حکم کا احترام کریں اور روم میں ہرگز مسجد بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ہندستان میں اس طرح کے جواب پر مزید سوالات کا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ مگر یہاں سب کے سب اخبار نویس جواب کو سن کر چپ ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا سوال شروع کر دیا۔ ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیوں کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجئے اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکھئے:۔ I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement. 9 اکتوبر کو شام کی نشست کا عنوان تھا : مذہب اور کلچر (Religion and Culture) بحیثیت چیئر مین میں نے مختصر تقریر کی۔ اس کے بعد مذکورہ موضوع پر لوگوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہاں کے اجتماعات میں عورت اور مرد کثیر تعداد میں جمع ہوتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک پڑھا لکھا ہوتا تھا۔ مگر میں نے کسی بھی اجتماع میں غیر ضروری سوال و جواب کا وہ انداز نہیں دیکھا جو ہندستان جیسے ملکوں میں عام ہے۔ یہاں تمام لوگ ذوق و شوق کے ساتھ اسٹیج کی تقریروں کو سنتے اور اس کے بعد یہ اصرار نہیں کرتے تھے کہ ہم کو ہر قسم کے سوال کرنے کا موقع دو۔ ہوٹل کے کمرہ میں حسب معمول گیڈینر (The Gideons International) کی طرف سے ہدیہ کی ہوئی بائبل بھی موجود تھی ، ۱۸۹۸ء میں امریکہ کے دو مسافروں نے طے کیا کہ وہ تمام دنیا کے ہوٹل ، اسپتال وغیرہ میں بائبل (انجیل) کے نسخے مختلف زبانوں میں چھاپ کر فراہم کریں گے ۔ اس وقت سے آج تک یہ کام جاری ہے۔ اس طرح عالمی پیمانے پر تمام دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچایا جا رہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page