ایک سفر
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قومی نفرت کی فضا ختم ہو جائے تو مسلمانوں کی موجودہ حالت کے با وجود اسلام تیزی سے ان کے درمیان پھیلنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں مسیحی چرچ بہت بڑے پیمانے پر یہ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحی اقوام کے درمیان عداوت کی فضا ختم ہو جائے اور صلح و آشتی کی فضا قائم ہو جائے۔ موجودہ کانفرنس بھی اسی نوعیت کی ایک کوشش تھی۔ بہت سے مسلمان اس کو "مسیحی سازش" کہہ کر اس کو متوحش نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو یہ دور جدید کی صلح حد یہ ہوگی جو بالآخر "فتح مبین" کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ یہاں محکمہ سیاحت کی طرف سے ہم کو تعارفی پمفلٹ اور کاغذات دئے گئے تھے۔ یہ سب نہایت خوبصورت چھپے ہوئے تھے۔ اکثر کتابچوں کے صفحہ اول پر کسی نہ کسی گرجا یا مسیحی یادگار کی نمایاں تصویر دی گئی تھی۔ ایک لمحہ کے لئے خیال آیا کہ اسی مالٹا میں مسلم عمارتیں بھی ہیں، مگر ان کتابچوں میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ اییں گناہ است که در شهر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ مالٹا کے بارہ میں ترک اگر کوئی پمفلٹ چھاپیں تو وہ اپنے دور کی مسجد کی تصویر صفحہ اول پر دیں گے۔ اسی طرح لیبیا والے اگر کوئی تعارفی پمفلٹ تیار کریں تو اس کے صفحہ اول پر لیبیا کے تعمیر کردہ اسلامی مرکز کی تصویر چھپی ہوئی ہوگی۔ یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہندوستان میں ہر ادارہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں سارا نقشہ اس طرح پیش کرتا ہے جیسے کہ وہی نظام عالم کی کلید ہے۔ اسی کے گرد کائنات کا کار خانہ گردش کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں دوسروں سے اس معاملہ کی شکایت کرنا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ مالٹا ایک خوبصورت مقام ہے۔ اس کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ ہم کو روزانہ بار بار شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ مگر بے شمار گاڑیوں کے باوجود یہاں کی فضا میں کثافت بہت کم تھی۔ صفائی کا غیر معمولی اہتمام تھا۔ سڑکوں پر کہیں بھی کوئی چیز پڑی ہوئی نظر نہیں آئی۔ فٹ پاتھ کی بھیڑ اور گندگی کا نشان بھی کہیں موجود نہ تھا۔ قاعدہ اور قانون کی خلاف ورزی کا یہاں مزاج نہیں۔ ہر آدمی اپنی حد کے اندر رہ کر اپنے کام میں مشغول رہتا ہے۔ میں نے ایک بار ایک مالی کو دیکھا۔ وہ ہوٹل کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader