ایک سفر
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
لان کی گھاس دستی مشین کے ذریعہ کاٹ رہا تھا۔ وہ اپنے کام میں اس قدر مشغول اور منہمک تھا جیسے کہ اس کو اس کے سوا اور کسی چیز کی خبر ہی نہیں۔ جب کہ ہندوستان کے ”مالی“ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو سب سے زیادہ دلچسپی دوسرے کام سے ہوتی ہے اور سب سے کم دلچسپی اپنی ڈیوٹی والے کام سے۔ ۱۱ اکتوبر کو ہم مالٹا کے ایک قدیم چرچ میں داخل ہوئے۔ یہ صبح نو بجے کا دقت تھا۔ اس وقت چرچ کے اندر روس (عبادت) ہو رہی تھی۔ گیٹ کے پاس نوٹس بورڈ پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ: WAQT IL-QUDDIES لکھے ہوئے تھے۔ غالبًا اس کا مطلب وقت القديس تھا۔ چرچ کے ہال میں چاروں طرف مجھنے لگے ہوئے تھے۔ ان میں دوسرے مسیحی پیشواؤں کے علاوہ مریم اور مسیح کا بھی مجسمہ تھا۔ اسٹیج کے مقام پر چند پادری کچھ پڑھ رہے تھے اور بار بار جھک کر اپنا سر میز پر رکھتے تھے۔ حاضرین سامنے کی بینچوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ مسیحی عبادت (اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی عبادت کا طریقہ انسان کی روح کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ انسان عین فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق کے آگے پوری طرح ڈال دے۔ اور ان طریقوں میں انسان صرف جزئی طور پر اپنے آپ کو اپنے خالق کے سامنے پیش کرتا ہے ، وہ پوری طرح اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہیں کر پاتا۔ ۱۰ اکتوبر کو شام کے کھانے کے لئے ہم لوگوں کو ایک مقام پر پہنچا یا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ ” بشپ پیلس“ ہے۔ یہ بہت بڑا محل کی مانند ایک مکان تھا۔ تاہم وہ بالکل سادہ تھا۔ یہ یہاں کے بشپ کی قیام گاہ ہے۔ یہاں لوگوں نے مالٹا کے مخصوص انداز میں کھانا کھایا۔ ملاقاتیں کیں اور پھر واپسی ہوئی۔ مالٹا کے انگریزی اخبار دی ٹائس (۸ اکتوبر ۱۹۹۱) میں یہ خبر تھی کہ یہاں کے سابق پولیس کمشنر کممنڈیٹور بنسینی (commodatore Algred J. Bencini) کا ۷۴ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ۱۹۳۹ میں مالٹا پولیس فورس میں شامل ہوئے تھے۔ کممنڈیٹور بنسینی نے اپنی خود نوشت سوانح عمری لکھی ہے جو _ سچائی کے سوا اور کچھ نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader