Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نام سے چھپی ہے۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء میں ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ پانچ مہینہ تک انتظام میں وزیراعظم کی غیرقانونی مداخلت کے بعد میں پنسل لے کر ملازمت سے الگ ہو گیا تھا: کسی نظام میں جب آدمی کی پوزیشن وہ ہو جائے جو مسٹر بنسینی کی ہو گئی تھی تو اس وقت مسئلہ خارجی نظام کا نہیں رہتا بلکہ خود اپنے ضمیر کا ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کرنا چاہئے۔ اس کے بعد نہ مصالحت درست ہے اور نہ بے فائدہ طور پر نظام سے ٹکرانا۔ ۱۱ اکتوبر کی صبح کو مالٹا سے میری واپسی تھی۔ اپنے کمرہ میں فجر کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں حدیث کے الفاظ میں " صلوٰۃ مودع" پڑھ رہا ہوں۔ گویا کہ آج کا دن مالٹا سے نہیں بلکہ خود دنیا سے میری روانگی کا دن ہے جہاں خالق کائنات نے مجھ کو ایک مدت کے لئے بھیجا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آخری روانگی کا دن میرے لئے آج مقدس ہے یا آج کے بعد۔ تاہم اس وقت کو آنا ہے اور وہ ضرور آکر رہے گا۔ اس کے بعد کس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ لا ادری و اللہ لا ادری و اللہ لا ادری وانارسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم۔ "آخری لمحات" کے احساس کے تحت کلمۂ شہادت میری زبان پر آگیا۔ میں نے کہا: اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً عبدہ ورسوله ۔ اس کلمہ کو ادا کرتے ہوئے مزید یہ احساس ابھرا کہ بہت سے نادان لوگ اس کلمہ کو کلمۂ فخر سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ درحقیقت وہ کلمہ عجز ہے۔ یہ خدا کی خدائی یا رسول کی رسالت کا صرف اقرار نہیں بلکہ اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف بھی ہے۔ گویا ایک بندہ جب اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدا یا تو خدا ہے، میں خدا نہیں ہوں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، مجھے رسول کی حیثیت حاصل نہیں۔ توحید و رسالت کے اقرار کے ساتھ اپنی عبدیت کا یہ اعتراف جب تک اس میں شامل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page