ایک سفر
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ ہو اس کو پورے معنوں میں کلمہ شہادت کی ادائیگی نہیں کہا جاسکتا۔ ۱۱ اکتوبر کی دوپہر کو ہم واپس ہو کر دوبارہ مالٹا ایئر پورٹ پہنچے۔ یہاں کچھ وقت دی آئی پی لاؤنج میں گزرا۔ ضروری اندراجات کا سارا کام ہمارے میزبان نے کیا۔ ساڑھے بارہ بجے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لئے نکلا۔ یہ ایئر مالٹا کی فلائٹ (220 KM) تھی ۔ جہاز کے دروازہ پر پہنچا تو وہاں دروازہ کے کنارے حسب ذیل دو لفظ لکھے ہوئے تھے۔ (Iftah/Open) ہوائی جہاز کے اسٹاف کے ایک آدمی سے میں نے پوچھا کہ " افتح " کیا مالٹی زبان ہے۔ اس نے کہا ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ مالٹی زبان بہت زیادہ عربی زبان سے مشابہ ہے: Malti language is very similar to Arabic language. جہاز کے مسافروں میں زیادہ تعداد سیاحوں کی تھی۔ مالٹا میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ مالٹا کی آمدنی کا خاص ذریعہ سیاحت ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان کو سیاحت انڈسٹری کا بہت کم حصہ ملتا ہے۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ سیاح یہاں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ مختلف قسم کی پرتشد د تحریکوں نے سیاح کو ہندوستان کی طرف سے متوحش بنا دیا ہے۔ دوسری اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان کا نظام سیاحوں کے لئے اسی طرح غیر ہمدرد ہوتا ہے جس طرح وہ عام ہندوستانیوں کے لئے غیر ہمدرد رہے۔ سیاح اکثر ہندوستان سے تلخ دفتری اور انتظامی تجربات لے کر واپس لوٹتے ہیں۔ جہاز کے اندر ایئر مالٹاک کی فلائٹ میگزین (Melta) کے شمارہ اکتوبر ۱۹۹۱ میں ایک مضمون مالٹا میں ٹیلی کارڈ روارج کرنے کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فائر ، پولیس اور ایمبولنس جیسے ایمرجنسی نمبروں کو ڈائل کرنے کے لئے کوئی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں : One does not need to insert a card to dial the emergency numbers مذکورہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مالٹا میں سیاحوں کے لئے بہت سی رعایتیں ہیں۔ مذکورہ رعایت ان میں سے صرف ایک ہے۔ ہمارا جہاز ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا مالٹا سے قاہرہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم جزیرہ کریٹ (Crete) سے گزر رے۔ کریٹ کو دیکھ کر ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader