ایک سفر
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
عرب ۱۴۸۲ میں کریٹ کے ساحل پر اتر چکے تھے اور انھوں نے اس کے ایک حصہ پر اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا۔ ۱۶۶۹ میں ترکوں نے پورے کریٹ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ میڈی ٹرینین کا یہ جزیرہ ایک عرصہ تک ترکوں کی یورپ میں پیش قدمی کے لئے ان کا بحری اڈہ بنا رہا۔ ۱۸۹۸ میں ترکوں کو کریٹ چھوڑ دینا پڑا۔ (5/253) میں نے سوچا کہ "کریٹ" ایک اعتبار سے مسلم تاریخ کا ایک صفحہ ہے، ایک ایسی تاریخ جو اب گزر چکی۔ اگر میں صرف اس تاریخ کو یاد کروں تو اس سے مجھے حسرت اور افسوس کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔ مگر دوسرے اعتبار سے "کریٹ" ایک جزیرہ ہے جو میڈی ٹرینین کے درمیان ابھرا ہوا ہے۔ وہ قدرت کا ایک نشان ہے جو بتاتا ہے کہ کس طرح خدا نے وسیع سمندروں میں جگہ جگہ خشکی کے مقامات پیدا کر دئے ہیں جہاں انسان اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے۔ "کریٹ" کو اگر میں اس دوسرے پہلو سے دیکھوں تو آج بھی وہ مجھ کو اپنا نظر آئے گا۔ کیوں کہ وہ مجھ کو عظیم ربانی خوراک دینے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ہم نے ایئر مالٹا کے جس جہاز سے سفر کیا، اسی سے مالٹا کے پرائم منسٹر ایڈور ڈ فرنچ ادامی (Edward French-Adami) بھی سفر کر رہے تھے۔ مگر جہاز میں پرائم منسٹر کے لئے کوئی اہتمام نہ تھا۔ نہ سیکورٹی کا کوئی آدمی دکھائی دیا۔ انڈیا کا پرائم منسٹر اور لاتا تو عام جہاز ( کمرشیل فلائٹ) میں سفر نہیں کرے گا۔ اور اگر بالفرض وہ ایسا کرے تو جہاز میں اس کے لئے اتنی دھوم ہوگی کہ ہر آدمی محسوس کرے گا کہ پرائم منسٹر صاحب اس جہاز میں سفر کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں "پرائم منسٹر" کے لئے کچھ اور ہے اور عوام کے لئے کچھ اور۔ اس کے برعکس مالٹا میں جو عوام کے لئے ہے وہی پرائم منسٹر کے لئے بھی ہے۔ پرائم منسٹر کو انتظامی اختیارات یقیناً عوام سے زیادہ حاصل ہیں۔ مگر حقوق اور احترام میں دونوں کے درمیان کوئی امتیازی فرق نہیں۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر مصر کے ایک عیسائی جارج اناوتی (George Anavati) تھے۔ وہ اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ۵۰ سال سے قاہرہ میں رہتے ہیں۔ ان سے مصر کے عیسائیوں کے بارہ میں بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ مصر میں ۱۰ فیصد مسیحی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ سچیوں کا کلچر اور مسلمانوں کا کلچر ایک ہے یا درج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اور ان کا مذہب تو الگ الگ ہے۔ باقی کلچر دونوں کا ایک ہے۔ کلچر کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ میں نے ان کی عمر پوچھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader