Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 336

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ ۸۶ سال۔ میں نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ۸۶ سال میں اتنی اچھی حالت میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الحمد للہ۔ سماجی تعلقات کے سلسلہ میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔ دوسرا گروہ بھی اگر کلچر میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں تو ان کے درمیان معتدل تعلقات مشکل ہو جائیں گے۔ اس کی مثال سابق پاکستان میں بنگالی اور پنجابی تعلقات اور موجودہ پاکستان میں سندھی اور مہاجر تعلقات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ اکثریتی فرقہ سے الگ اپنا کلچر تشخص قائم کریں۔ اصولاً یہ کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ہم کو جاننا چاہئے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور کسی مشترک سماج میں علیحدہ تشخص قائم کرنے کی بھی ایک قیمت ہے۔ اس دنیا میں قیمت دیئے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی۔ سندھ کے مہاجرین نے اپنا علیحدہ گروہ ہی تشخص قائم کرنا چاہا مگر وہ اس کی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اس کا جو نتیجہ ہوا وہ ہر ایک کو معلوم ہے۔ جو سوال میں نے جارج انا داتی سے پوچھا تھا۔ وہی سوال میں نے قاہرہ میں محمد کمال صاحب سے کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہاں کلچر کے اعتبار سے مسلمان اور مسیحی میں فرق ہے۔ اگر ہم ایک مسیحی سے سڑک پر ملیں اور اس سے بات کریں یا اس کے ساتھ چل کر اس کے گھر میں داخل ہوں تو ایک ہم اس کی زبان اور رہائش میں اور مسلمان مصری کی زبان اور رہائش میں فرق محسوس کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ، کوئی فرق نہیں۔ سوا اس کے کہ ہم مسجد میں جاتے ہیں اور وہ چرچ میں جاتے ہیں۔ اس کے سوا دونوں میں کوئی فرق نہیں ( ليس هناك اي فرق )۔ کولمبس ایک اطالوی ملاح تھا جس نے مشہور روایت کے مطابق امریکہ کو دریافت کیا۔ اس کی کشتیوں کا بیڑا ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کو امریکہ (Bahamas) کے ساحل پر پہنچا تھا۔ اس اعتبار سے اس واقعہ پر اب پانچ سو سال گزر چکے ہیں۔ الیت لیا کے اشاعتی شعبہ نے اس مناسبت سے ۱۳۰ صفحات کا خصوصی نمبر شائع کیا ہے۔ اس میں کولمبس کو عالمی اطالوی (Universal Italian) کا لقب دیا گیا ہے۔ ایک مضمون (The Dawn of Modern Age) کے تحت بتایا گیا ہے کہ ۵۰۰ سال پہلے کولمبس کی دریافت امریکہ کے ذریعہ ایک نئے جغرافی ، علمی ، اخلاقی اور افق کا راستہ کھولا گیا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page