ایک سفر
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
خالص تاریخی اعتبار سے اصل حقیقت یہ ہے کہ دور جدید کی صبح اسلام کے ظہور کے دقت چودہ سو سال پہلے طلوع ہوئی۔ یہ دراصل توحید پر مبنی اسلامی انقلاب تھا جس نے انسان کے اوپر تمام جدید ترقیوں کے دروازے کھولے (تفصیل کے لئے؛ اسلام دورِ جدید کا خالق) ایک مسلمان پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے عربوں کے بارہ میں یہ شکایت کی کہ وہ یورپ اور امریکہ کے سفید فام لوگوں سے بہت مرعوب ہیں۔ یہاں کی ایک اصطلاح ہے جس کو عُقْدَةُ الْخَوَاجَه (White man Complex) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ اس مرعوبیت کو بتاتا ہے جو موجودہ عربوں کو سفید فام امریکیوں یا یورپیوں کے بارہ میں ان کے اندر ہے۔ ایئر پورٹ پر سفید فام امریکی کو "ویلکم" کے ساتھ مسکراہٹ ملے گی۔ مگر ہندوستانی، پاکستانی یا بنگلہ دیشی سلمان کا استقبال صرف خشک دفتریت سے کیا جائے گا۔ یہی فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ حتی کہ تنخواہوں میں بھی دونوں طبقوں کے درمیان واضح امتیاز موجود ہے۔ تاہم مجھے ذاتی طور پر اس کی شکایت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا تفریقی سلوک حقیقتةً سفید فام یا سیاہ فام کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ بلکہ قومی امیج کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔"سفید فام امریکی" نے اپنے تین سو سالہ عمل سے اپنی ایک اعلیٰ عمومی امیج بنائی ہے۔ بدقسمتی سے ایشیائی اور افریقی مسلمان اپنے حق میں اس قسم کی امیج نہ بنا سکے۔ ایسی حالت میں ناممکن ہے کہ ہماری کوتاہی کی قیمت کوئی دوسرا ادا کرے۔ مادی اور ٹیکنکل ترقیات کے علاوہ عام اصول حیات میں بھی ایشیائی اور افریقی سلمان ان سفید فام قوموں سے پیچھے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ اپنا کام حد درجہ پلاننگ کے ساتھ کرتے ہیں، جب کہ ہمارے یہاں ابھی تک تصور کے درجہ میں بھی پلاننگ کا کوئی وجود نہیں۔ ایسی حالت میں اگر بین اقوامی سلوک میں دونوں کے درمیان فرق پایا جائے تو یہ عین مطابق حقیقت بات ہے۔ ہمیں چاہئے کہ خود اپنی کوتاہیوں کو روکریں نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر جہاز اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائے۔ ہوائی جہاز جب فضا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader