Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بلند ہو کر اڑ رہا ہو تو اس میں حادثہ کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر، ہوائی حادثے ہوائی اڈہ سے اڑتے ہوئے یا ہوائی اڈہ پر اترتے ہوئے پیش آتے ہیں۔ اس لئے ہوائی جہاز کا محفوظ طور ہوائی اڈہ پر اتر جانا مسافروں کے لئے خصوصی اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ جہاز سے اتر کر ہوائی اڈہ کی عمارت کے سامنے پہنچا تو داخل ہونے کے دروازہ پر ایک بورڈ تھا اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد قرآن (یوسف (۹۹) کی یہ آیت روشن حروف میں لکھی ہوئی تھی : ادخلوا مصر ان شاء الله آمنین ۔ اندر امیگریشن کی قطار میں کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں شیخ اسحاق اور لیس مجھ کو دیکھ کر وہاں آ گئے۔ انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا پاسپورٹ لے کر اسٹاف کے ایک آدمی کو دے دیا اور ہم کو لے جا کر ایک کری پر بٹھا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد سردری کارروائی مکمل ہو کر ہمارا پاسپورٹ واپس آگیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دل سے دعا نکلی کہ کاش قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ میرے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمائے۔ ہوائی اڈہ کے باہر میرے میزبان محمد کمال مصری موجود تھے۔ ان کے ساتھ شہر کے لئے روانہ ہوا۔ گاڑی میں بیٹھا تو محمد کمال صاحب نے کہا : شرفت القاهرة يا مولانا ۔ اس وقت میں ایک خیال میں گم تھا۔ میری زبان سے نکل گیا : نعم۔ ایک لمحہ کے بعد خیال آیا کہ میں نے بڑا غلط لفظ کہہ دیا ۔ مجھے کہنا چاہئے تھا : بل القاهرة شرفتنی ۔ حقیقت یہ ہے کہ آرمی کان سے نہیں سنتا، وہ دماغ سے سنتا ہے۔ آدمی کسی کی بات سنے یا کسی کی زبان سے کوئی کلمہ نکل جائے تو صرف لفظ کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس سے اس کی واقعی مراد کیا ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ الذین يستمعون القول يتبعون أحسنه قاہرہ کے در و دیوار گویا کتاب واقعات کے زندہ اوراق ہیں۔ یہاں کے ہر حصہ سے تاریخ کے واقعات وابستہ ہیں۔ ہم شہر کے لئے روانہ ہوئے تو میرے میزبان نے سٹرک کے دونوں طرف کھڑی ہوئی عمارتوں کا تعارف کرانا شروع کیا۔ یہاں انور سادات کو گولی ماری گئی۔ یہ صلاح الدین کا قلعہ ہے۔ یہ جامعہ الازہر ہے۔ یہ فاطمیوں کے عہد کی یادگار ہے۔ وغیرہ۔ ایک لمحہ کے لئے ایسا محسوس ہوا کہ ہم سڑک پر نہیں چل رہے ہیں بلکہ تاریخ کے درمیان اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ شیخ اسحاق اور لیس بھی ہمارے ساتھ آئے۔ ایک مقام پر پہنچ کر گاڑی رکی۔ یہ درس منزل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page