ایک سفر
Urdu book, p. 408
By Maulana Wahiduddin Khan
عجیب بات ہے کہ خود مسلمان بھی ٹھیک اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ موجودہ زمانہ میں وہ بے صبر ہو کر جگہ جگہ متشددانہ عمل کر رہے ہیں اور جب دنیا یہ کہنے لگتی ہے کہ اسلام تشدد کی تعلیم دیتا ہے تو فوراً وہ کانفرنس کر کے اعلان کرتے ہیں کہ یہ ڈس انفارمیشن ہے۔ ورنہ ہم تو جس مذہب پر ہیں وہ امن و سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہوا میں پرواز کرنے کا تخیل انسان کے اندر کب پیدا ہوا۔ اس کی کوئی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔ تا ہم تقریباً یقینی طور پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پرواز کا پہلا خیال انسان کے اندر اس وقت آیا جب اس نے چڑیا کو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً مچھلی کو دیکھ کر انسان کے اندر پانی میں تیرنے کا خیال آیا اور چڑیوں کو دیکھ کر فضا میں اُڑنے کا۔ انسان نے جلد ہی کشتی بنا کر پانی میں تیرنا شروع کر دیا۔ مگر فضا میں اڑنے کا تخیل بہت دیر میں واقعہ بن سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سادہ کشتی بنانے کا کام قدیم دستکاری کے دور میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ہوائی جہاز بنانا صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ اس سے پہلے دنیا میں صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ دوسری کئی چیزوں کی طرح، ہوائی جہاز کو ترقی دینے میں جنگجو یانہ ذہن کا بڑا حصہ ہے۔ فرانس کا لوئی چہار دہم (Louis XIV) ایک جنگجو بادشاہ تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ ایسی سوار ہی بنائی جا سکتی ہے جو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس نے اس کام کی حوصلہ افزائی کی۔ ۱۶۶۰ء میں اس نے اس کام کے لئے کچھ لوگوں کو ہر قسم کے وسائل دئیے۔ تاہم ابتدائی نوعیت کی مشینی سواری (Powered flight) غالباً ۱۸۶۸ء میں سومر سیٹ میں بنائی جاسکی۔ جہازوں کے ماڈل کو دیکھا جائے تو ان میں ایک تدریجی ارتقا نظر آئے گا۔ ۱۲ ستمبر کی صبح کو سوئس ایئر کی فلائٹ کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم بروسیلز میں اتر گئے ۔ یہاں کانفرنس کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ ان کے ساتھ ہمارا ت افلہ شہر کے لئے روانہ ہوا۔ بر و سیلز کی سڑکیں بہت صاف ستھری نظر آئیں۔ مکانات اور دکانیں بھی نہایت آراستہ تھے۔ ہر طرف پھیلا ہوا سبزہ اور خوشگوار موسم مزید اس میں اضافہ کر رہا تھا۔ بر و سیلز میں میرا قیام بلسن ہوٹل (Belson Hotel) کے کمرہ نمبر ۳۶ میں تھا۔ یہ شہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader