ایک سفر
Urdu book, p. 409
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کنارے خوشنما مقام پر واقع ہے۔ ایک بار میں لفٹ میں تھا۔ اچانک بجلی چلی گئی۔ لفٹ رک گئی۔ اس کے اندر مکمل اندھیرا چھا گیا۔ مجھے یاد نہ تھا کہ اس کے اندر ٹیلیفون ہے۔ مگر میرے ذہن میں یہ تھا کہ اس سے پیغام دینے کے لئے کسی نمبر کو ڈائل کرنا ہوگا اور تاریکی کی وجہ سے نمبر کو دیکھنا اور اس کو ڈائل کرنا ممکن نہیں۔ اسی حیس میں رسیور اٹھایا تو اپنے آپ گھنٹی بجنے لگی۔ لفٹ کے ٹیلیفون پر نمبر ڈائل کئے بغیر صرف رسیور اٹھانے سے گھنٹی بجتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو لفٹ کے اندر اندھیرا ہو جانے کے بعد ٹیلیفون کو استعمال کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ اس کے بعد ہنگامی موقع پر اس ٹیلیفون کو صرف وہ شخص استعمال کر سکتا ہے جس کے پاس ٹارچ موجود ہو۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیش بندی کس چیز کا نام ہے۔ پیش بندی کسی بھی عمل کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو لو وین کی کیتھولک یونیورسٹی (Catholic University of Louvain) میں شرکاء کا نفرنس کی اجتماعی ملاقات اور کھانا تھا۔ یہ یونیورسٹی چودھویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی۔ اس میں ۲۵ ہزار طلبہ تعلیم پارہے ہیں۔ دوسرے شعبوں کے ساتھ اس میں فیکلٹی آف تھیالوجی کا بہت بڑا شعبہ ہے۔ اس کے تحت اسلامک اسٹڈیز کا بھی انتظام ہے۔ یہ یونیورسٹی قدیم طرز کی نہایت عظیم عمارات میں واقع ہے۔ چودھویں صدی ! اور اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ میں علم کا چرچا بہت زیادہ بڑھ گیا۔ یہ زیادہ تر بغداد اور اسپین کے زیر اثر تھا۔ مگر بعد کے دور میں، بڑی بڑی سلطنتوں اور بڑی شخصیتوں کے باوجود، مسلم دنیا میں علم کا چرچا باقی نہ رہا۔ علم کا آغاز مسلمانوں نے کیا تھا، مگر اس کی تکمیل کے دور میں سارا کریڈٹ مغربی قوموں نے حاصل کر لیا۔ یہی علمی پس ماندگی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے نہ کہ فرضی سازشیں جس کا اعلان غلط طور پر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ ہر صبح و شام کرتے رہتے ہیں۔ یونیورسٹی دیکھنے کے بعد موٹل واپس آیا تو کافی رات ہو چکی تھی۔ عین اس وقت کمرہ کے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو ایک عرب نوجوان قاھرہ سے بول رہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا کہ انھوں نے برو سیلز میں ہمارے ٹیلیفون کا نمبر کیسے حاصل کر لیا۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے دہلی ، لندن اور بروسیلز میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader