Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

(St. Michael's Cathedral) اس کے بعد آگے بڑھے تو برو سیلز کا بڑا چرچ نظر آیا۔ وہ کھلا ہوا تھا۔ زائرین کا ہجوم اندر جاتا اور باہر نکلتا ہوا نظر آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر کوئی شخص برو سیلز کی مسجد اور یہاں کے کیتھڈرل کے اس فرق کو دیکھ کر خود مسیحیت اور اسلام کے بارے میں رائے قائم کرے اور کہے کہ دیکھو، مسیحی مذہب شاندار اور پر زندہ ہے اور اسلام کی عمارت پر قفل پڑ چکے ہیں تو بنٹا ہر مسیح دکھائے دینے کے باوجود وہ ایک لغو بات ہوگی۔ کیوں کہ یہ ایک مقامی معاملہ ہے نہ کہ عمومی طور پر پوری دنیا کا معاملہ۔ برو سیلز کا یہ تاریخی کیتھڈرل مکمل طور پر پتھروں کا بنا ہوا ہے۔ اس کی عمارت پر ہیبت حد تک بلند اور عظیم ہے۔ وہاں مفت تقسیم کے لئے ایک پمفلٹ موجود تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گیارہویں صدی عیسوی میں اس مقام پر ایک بڑا رومن چرچ (Romanesque church) تھا۔ اس کے کھنڈر پر ہنری اول (Henry I) کے حکم سے تیرہویں صدی میں ایک بڑا چرچ بنایا گیا۔ اس کے بعد تین سو سال تک اس میں تعمیرات جاری رہیں ۔ شاہ چارلس پنجم (Charles V) کے زمانہ میں موجودہ عظیم عمارت کی تکمیل ہوئی ۔ اس کے ساتھ ایک مذہبی تعلیمی ادارہ بھی ہے۔ یہاں مسیحیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کو چرچ کالج (collegiate church of SS Michael) کہا جاتا ہے۔ تعمیری عظمت کے اعتبار سے یہ کیتھڈرل یہاں کی مسجد سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ مگر کیتھڈرل کے چاروں طرف صرف عمارتوں کا ماحول ہے۔ جب کہ مسجد کے ارد گرد دہرا بھرا ماحول ہے۔ مسجد گویا ایک بہت بڑے پارک کے درمیان کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا ، کیتھڈرل کے اندر زبردست سرگرمیاں تھیں لیکن مسجد میں اس وقت کوئی ان نی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ کیتھڈرل کے اندر مختلف قسم کے لٹریچر مسیحیت سے متعلق رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کو میں نے لے لیا۔ ۱۳ دسمبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس تھا۔ یہ بر و سیلز سے ۳۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر لووین (Louxain) کے اسپورٹس سنٹر میں رکھا گیا تھا ۔ یہ سنٹر غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ اس کے جس ہال میں اجلاس کا انتظام تھا وہ اپنی غیر معمولی تعبیرات سے عجیب پراثر معلوم ہو رہا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page