Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 441

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ حالات میں ذہنی سکون حاصل ہے: Do you feel you are enjoying mental peace. اس نے مسکر ا کر کہا کہ ہماری زندگی اتنی زیادہ مشینی ہو چکی ہے کہ ہمارے لئے سوچنے کا موقع بھی نہیں ہم میں سے اکثر لوگوں کو شاید ہی کبھی یہ موقع ملتا ہو کہ وہ آپ جیسے لوگوں کی طرح فلسفیانہ انداز میں سوچیں کہ انہیں پیس آف مائنڈ حاصل ہے یا نہیں۔ ترقی کے ساتھ بے ترقی کا کیسا عجیب نمونہ مغربی ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں آپ جس سڑک یا جس مقام پر نکلیں ہر جگہ کتوں کا منظر دکھائی دے گا۔ مرد اور عورت کتے کی رسی اپنے ہاتھ میں لے کر چلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ۲۰ ستمبر کو میں نے ایک تعلیم یافتہ انگریز سے کہا معاف کیجئے ، کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ لوگ کتوں سے کیوں اتنا زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انگریز کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد بولا ۔ میں نے فرانس کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں سات ملین آدمی کتا پالے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کا ایک سروے کیا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاندانی انتشار اور انڈسٹریل انقلاب کے نتیجہ میں لوگوں نے انسان کے اندر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ بیٹا اور بیٹی بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ جب کہ کتا اپنی وفاداری کی فطرت کی بنا پر انھیں یہ اعتماد دے رہا تھا۔ کتے کے اندر وہ اپنی اس مطلوب چیز کو پا رہے تھے جس کو وہ موجودہ انسان حتیٰ کہ اپنے عزیز وں میں بھی نہیں پاتے۔ اس لئے وہ اپنی مطلوب فطرت کی تسکین کے لئے کتا پالنے لگے ہیں۔ پھر اس نے مسکر اکر کہا کہ یہی معاملہ غالباً برطانیہ کے لوگوں کا بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ کتا رسی ایکٹ نہیں کرتا ، جب کہ انسان رسی ایکٹ کرتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کتا انسان کے مقابلہ میں ایک غیر اختیاری مخلوق ہے۔ انسان با اختیار مخلوق ہونے کی وجہ سے رسی ایکٹ کرتا ہے جو آپ کے لئے نا گوار ہے۔ جب کہ کتا اس طرح رسی ایکٹ نہیں کرتا اس لئے اس کے اور آپ کے درمیان کا مپلیکس پیدا نہیں ہوتا۔ پھر میں نے قرآن کی آیت افغیر دین اللہ يبغون وله اسلم من في السماوات والارض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page