ایک سفر
Urdu book, p. 442
By Maulana Wahiduddin Khan
طوعا و کرہا کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی اسکیم میں انسان اور حیوان دونوں سے ایک ہی دین کی پیروی مطلوب ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جس اصول کی پیرو وہی حیوان جبلت (instinct) کے تحت مجبورانہ کر رہے ہیں، اس دین کی پیروی انسان اختیار کرنے لگے۔ اسی کا نام اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب دراصل دینِ فطرت کی پیروی ہے۔ اگر انسان اسی طرح دین فطرت پر آجائے جس طرح حیوان دین فطرت پر قائم ہے تو اس کے بعد انسان سے رہی ایکشن کا طریقہ چھوٹ جائے گا۔ اس کے بعد انسان بھی آپ کے لئے محبوب بن جائے گا۔ جس طرح حیوان آپ کے لئے محبوب بنا ہوا ہے، کیوں کہ انسان ہر اعتبار سے حیوان کے مقابلہ میں افضل ہے۔ مثلاً ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان خیالات کا اسپیچ ہوتا ہے، جب کہ انسان اور حیوان کے درمیان اس قسم کا اسپیچ ممکن نہیں۔ دسمبر ۱۹۹۱ میں مانچسٹر میں ایک بڑی اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے علماء شریک ہوئے۔ اس کا موضوع الاسلام والنظام العالمي الجديد تھا۔ طارق حسین الكردی (۳۰ سال ) مانچسٹر کے قریب دگن میں رہتے ہیں۔ وہ موتمر میں شریک نہیں تھے۔ البتہ اس کا ویڈیویپ انھوں نے دیکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک عرب محاضر نے اپنے محاضرہ میں بتایا کہ مغرب اسلام کا دشمن ہے۔ وہ اسلام کو تباہ کر دینا چاہتا ہے (ان الغرب يريد تدمير الاسلام) محاضرہ کے بعد حاضرین میں سے ایک نوجوان کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں مغرب اسلام کو تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے لئے کیسے یہ ممکن ہو کہ ہم ایک مغربی ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر موجودہ اسلامی کانفرنس اور اس طرح کی دوسری کانفرنسیں منعقد کریں۔ محاضر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم اس راز کو نہیں جانتے۔ یہ مغرب کی ایک گہری چال ہے۔ یہ مغرب کی فراخ دلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی سوچی سمجھی اسٹریٹیجی کا نتیجہ ہے۔ میں نے اس قصہ کو سنا تو میں نے کہا کہ استغفراللہ۔ محاضر اگر واقعی اسلام پسند تھے تو اس سوال کے بعد انھیں ڈھیر پڑ نا چاہئے تھا اور چیخ کر کہنا چاہئے تھا: کل الناس اعلم منی حتی البخائز سید نا عمر کی یہ سنت بتاتی ہے کہ مومن کا مزاج کیا ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے کہ جب اس کی غلطی بتائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader