Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 443

By Maulana Wahiduddin Khan

تو وہ اس کے عدم اعتراف کو افورڈ نہ کرسکے۔ میں نے کہا: المومن لا يستطيع ان يتحمل عدم الاعتراف۔ ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا: حارب۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک بات عرض کروں۔ پھر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح علی ابن ابی طالب سے کیا۔ ان کے یہاں ایک بچہ کی ولادت ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے پوچھا کہ اس کا نام کیا رکھا۔ انھوں نے کہا حرب۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں اس کا نام حسن رکھو۔ میں نے کہا کہ آپ کا نام ما انا علیہ و اصحابی کے خلاف ہے۔ جس نام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا اس کو آپ دوبارہ پسند کر رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تاریخ میں دور حرب ختم ہوا، اور دور امن شروع ہوا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم زعماء اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی قربانیوں سے دور حرب کو ختم کر کے تاریخ انسانی میں دور امن شروع کیا۔ اور یہ مسلم زعماء دوبارہ تاریخ انسانی میں دور حرب واپس لانا چاہتے ہیں۔ ۲۰ ستمبر کو عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں سورۃ النساء کی آیت ۷۰ کے بارہ میں سوال کیا گیا۔ اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا میں کبھی یکساں حالات نہیں ہو سکتے یکساں حالات صرف جنت کے ماحول میں ممکن ہیں۔ یہ دنیا دار امتحان ہے۔ یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے اس لئے یہاں ہمیشہ نشیب و فراز کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس لئے قرآن وسنت میں ہر طرح کے احکام ہیں تاکہ اہل اسلام اپنے آپ کو جن حالات میں پائیں اس کے مطابق عمل کر سکیں ۔ مثلاً اس دنیا میں اہل ایمان کو کبھی مسجد میں معتدل حالات میں نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انھیں جنگ کے میدان میں نماز پڑھنا پڑتا ہے۔ اس لئے قرآن و حدیث میں اگر عام حالات میں نماز کی ادائیگی کا حکم بتایا گیا تو اسی کے ساتھ جنگ کے میدان کے لئے صلاۃ خوف کا حکم بھی بتا دیا گیا۔ پھر میں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے موجودہ دنیا میں مختلف حالات ہو سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page