ایک سفر
Urdu book, p. 444
By Maulana Wahiduddin Khan
سنتِ رسول کا مطالعہ کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی وسیع تر تقسیم میں تین قسموں میں نظر آئے گی ۔ اول، مکی دور ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ اہل اسلام کے ہاتھ میں سیاسی قوت نہیں تھی۔ دوم مدنی دور کا نصف اول ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مدینہ میں دو متوازی نظام قائم تھا۔ اس کا اقرار صحیفہ مدینہ میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے: لليهود دينهم وللمسلمين دينهم ۔ سوم، مدنی دور کا نصف ثانی ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ماحول میں اہل اسلام کا غیر مشترک اقتدار قائم ہوگیا۔ میں نے کہا کہ سورہ النسائ کی مذکورہ آیت ( يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت) مدنی دور کے نصف اول والے حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج اکثر ملکوں میں یہی صورت حال ہے۔ مثلاً برطانیہ میں ایک طرف برٹش کورٹ ہے۔ دوسری طرف مساجد اور اسلامی مراکز کے علماء ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء ۔ برٹش کورٹ گویا کعب بن اشرف کے مماثل ہے۔ اور علماء (یا دار الافتاء) رسول کے نمائندہ ۔ اب مذکورہ آیت کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ ان کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہو تو وہ اپنے معاملہ کو ملکی عدالت میں نہ لے جائیں۔ بلکہ علماء یا دار الافتاء کے سامنے رکھ کر اس کا شرعی فیصلہ کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں جو فیصلہ دیا جائے اس کو بے چون و چرا تسلیم کرلیں۔ لندن میں مقیم ایک ہندوستانی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کا رسالہ پڑھتا تھا۔ مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے خلاف کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اور آپ کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد میں آپ کے مشن کے بارہ میں مشتبہہ ہوگیا اور آپ کی تحریروں کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ میں نے کہا کہ مخالفانہ مضامین تو ہر ایک کے خلاف لکھے گئے ہیں۔ تبلیغی جماعت جیسی بے ضرر جماعت کے خلاف بھی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ حتی کہ اکابریں سے کوئی بھی شاید ہی اس قسم کی تحریروں سے بچا ہو۔ اس وقت میرے پاس محمد سرور بن نایف زین العابدین کی کتاب الحكم بغير ما انزل الله و اهل الغلو تھی ۔ یہ کتاب دار القلم، برمنگھم (4422 449-021 .Tel) نے چھپائی ہے۔ میں نے اس کا صفحہ ۲۰۸ دکھایا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے امام النووی کے بارہ میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی شرح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، حضرت ابوذر پر اور اسلام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader