ایک سفر
Urdu book, p. 456
By Maulana Wahiduddin Khan
غالب گمان یہی ہے کہ بچوں نے یہ بات تفریح کے طور پر کہی۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیحی بچوں کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ میرا حلیہ انہیں عجیب نظر آیا۔ اس لئے انھوں نے مجھ کو فادر کرسمس سے تشبیہ دی ۔ ایک عرب نوجوان سے محمد قطب کی کتاب رؤية اسلامية لاحوال العالم المعاصر کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل عالم عربی میں جو کتا بیں چھپ رہی ہیں وہ زیادہ تر ایسی ہیں جو تفکیر کو بگاڑنے والی ہیں۔ انھیں میں سے یہ کتاب بھی ہے۔ ان کو میرے اس بیان پر تعجب ہوا۔ میں نے مذکورہ کتاب ( دار الوطن للنشر، الرياض ) کا صفحہ ۸۶ دکھایا جس کا عنوان ہے: ماذا اخسر العالم بانحطاط المسلمين میں نے کہا کہ پہلی بات یہ کہ یہ عنوان ہی صحیح نہیں۔ صحیح عنوان یہ ہونا چاہئے کہ ماذا اخسر المسلمون بانحطاطهم۔ بوقت انحطاط آدمی کی توجہ اپنے خسران کی طرف ہونی چاہئے تا کہ احتساب خویش کی نفسیات پیدا ہو نہ کہ دوسروں کے خسران پر جو بے بنیاد طور پر فخر کی نفسیات پیدا کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ مصنف لکھتے ہیں کہ ان الله جعل مقادير البشرية كلها مرتبطة باحوال هذه الامة ، ان خير أ فخير وان شر أفشر (صفحہ ۱۸۶) میں نے کہا کہ قرآن وحدیث میں یہ بات کہاں ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں ہے کہ وان تتولوا يستبدل قوماً غيركم (محمد ۳۸) قرآن میں واضح طور پر يستبدل قوما غيركم موجود ہے۔ مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ نستبدل قرا آنأ غير هذا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اور امت میں فرق ہے۔ جو چیز مستمر ہے وہ قرآن ہے نہ کہ امت۔ قرآن کی آیت فخلف من بعدهم خلف (مریم ۵۹) کے مطابق ، ہم اختلاف الامہ ہیں نہ کہ الامہ۔ میں نے کہا کہ مقادیر بشریہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام سے مرتبط کیا ہے نہ کہ مسلمانوں سے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے اور بالآخر انھوں نے خدائی دین کو نسلی دین بنا دیا۔ اب مختلف الفاظ میں یہی عقیدہ مسلمانوں میں پھیلایا جا رہا ہے۔ عرب نوجوانوں میں قابل لحاظ تعداد ایسے لوگوں کی پیدا ہوگئی ہے جو الرسالہ مشن سے پوری طرح واقف ہے اور اس سے مکمل اتفاق رکھتی ہے۔ اس سفر میں اس قسم کے کئی تجربے پیش آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader