ایک سفر
Urdu book, p. 457
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے۔ سفر کے دوران میری ملاقات ایک عرب نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ یہ واقعہ ان کے الفاظ میں حسب ذیل تھا: فقال لي بعض الشباب يوما - انظر الى الذى يفعل بالمسلمين في انماء العالم من بوزنيا الى كشمير، الى كل مكان ۔ فهؤلاء يريدون أن يقضوا على الاسلام فلابد أن نقف لمواجهة الخطر بكل قوة (اراد القتال العسكرى)، فقلت له ان الأمر الذي يُحيرّنى ولم اجد له تفسير ، هو لماذا !! أصبح مسلموا لعصر الحديث يعرفون كل شئ ماعد الصبر. فلا يوجد شخص واحد فى العالم الاسلامی ينادی بالصبر رغم ان الصبر مذكور فى القرآن أكثر من القتال۔ فقال هذا يعتمد على الذى تقصده بالصبر. فقلت الصبر لا يعنى اللا عمل بل العمل مع التخطيط ۔ فسكت۔ یہ ایک نئی سوچ ہے جو عالم اسلامی میں الرسالہ مشن کے ذریعہ پیدا ہوئی ہے اور دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کئی عرب نوجوانوں نے اپنی پوری زندگی اس مشن کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات بیان کرنے کی گنجائش سفر نامہ میں نہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے انگریز نومسلم یوسف اسلام کی تقریر سنی۔ وہ پوری کی پوری احتجاجی انداز کی تھی۔ انھوں نے اپنی پوری تقریر میں اعداء اسلام کی سازشوں اور مظالم کا ذکر کیا۔ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ یوسف اسلام نے جب اسلام قبول کیا تو ابتدائی زمانہ میں ان کا یہ انداز نہ تھا۔ ان کی ابتدائی زمانہ کی ایک تقریر الرسالہ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس میں واضح طور پر انھوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ اسلام کے روحانی پہلو نے ان کو متاثر کیا اور اس طرح وہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس معاملہ کی تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی صحبت کے نتیجہ میں ان کے اندر یہ تبدیلی آئی ہے۔ مغربی دنیا میں کثیر تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر حقیقی معنوں میں کوئی دعوتی کام وہ نہیں کر رہے ہیں۔ البتہ خود اپنی فطرت کے زور پر یا ذاتی مطالعہ سے مغرب میں اکثر لوگ اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ یہ نومسلم جب اپنی سابقہ سوسائٹی سے کٹتے ہیں تو وہ اپنے لئے نئی سوسائٹی چاہتے ہیں۔ اس کمی کی تلافی کے لئے قدرتی طور پر وہ مغرب میں مقیم مسلمانوں سے قریب ہوتے ہیں۔ یہ مسلمان زیادہ تر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader