ایک سفر
Urdu book, p. 458
By Maulana Wahiduddin Khan
احتجاجی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ان نو مسلموں کا مزاج بھی احتجاجی مزاج بن جاتا ہے۔ آج مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے جن زیادتیوں کا تجربہ ہو رہا ہے وہ دراصل خدا کی تنبیہات ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے ان زیادتیوں کو خود ان قوموں کی سازش اور ان کے ظلم کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس کے نتیجہ میں بہت بڑی مزاجی خرابی واقع ہوگئی۔ مسلمان اگر ان زیادتیوں کو تنبیہات الہی سمجھتے تو ان کے اندر اصلاح خویش کا جذبہ ابھرتا۔ مگر جب انھوں نے ان زیادتیوں کو اقوام غیر کی سازشوں کا نتیجہ قرار دیا تو ان کے اندر برعکس طور پر احتجاج غیر کے جذبات ابھر آئے۔ اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سارے معاملہ کو بگاڑ دیا۔ ڈگن کے زمانہ قیام میں جس مکان میں ٹھہرا تھا، اس کے سامنے سڑک کے کنارے زیر زمین پانی کی پائپ میں کچھ خرابی آ گئی۔ ۲۱ ستمبر کی صبح کو میں نے دیکھا کہ ایک بڑی سی بند گاڑی وہاں آ کر کھڑی ہوئی۔ اس میں ہر قسم کا ضروری سامان موجود تھا۔ گاڑی میں سے ایک سفید فام تنندرست آدمی نکلا۔ اس کے ہاتھ میں مخصوص قسم کا پھاوڑا تھا۔ وہ فوراً اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ مسلسل کام کر کے اس نے زمین کھودی۔ پائپ کو درست کیا۔ اس کے بعد پتھر کے ٹکڑوں اور تارکول سے خالی جگہ کو بھر کر پھر اس کو پختہ کیا اور چلا گیا۔ دہلی میں میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ اس طرح کے ایک کام کے لئے بیک وقت کئی آدمی آئیں گے۔ وہ گھنٹوں وہاں ٹھہرنے کے بعد کام کو ادھورا چھوڑ دیں گے۔ اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوگی کہ دوبارہ وہ کب آئیں گے اور کب اپنے چھوڑے ہوئے کام کو مکمل کریں گے۔ برطانیہ کے زمانہ قیام میں کبھی مکھی، مچھر وغیرہ دکھائی نہیں دیا۔ نہ حالت سفر میں اور نہ حالت قیام میں۔ میں اس کے بارہ میں کسی سے پوچھ نہ سکا۔ تاہم عملی تجربہ کے مطابق ، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ مہم کے تحت اس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ کیوں کہ مسلسل نگرانی کے بغیر خاتمہ کی صورت حال کو باقی نہیں رکھا جا سکتا۔ انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے جو انگریز قوم کے مزاج کو بتاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ، سست عمل مگر تیقن کے ساتھ (slow but sure) محمد قطب نے اپنی کتاب روية اسلامیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader