Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 459

By Maulana Wahiduddin Khan

احوال العالم المعاصر میں اس کو مغرب کی شیطانی سیاست کے ایک اصول کے طور پر ذکر کیا ہے۔ اور اس کا ترجمہ التدرج البطیٔ الاکید المفعول (صفحه ۹) کیا ہے۔ مگر میرے خیال سے اس کا اس کا صحیح مفہوم ان الفاظ میں ادا ہوتا ہے : بطیٔ وانما مؤکد یا بطیٔ ولكن مؤكد۔ انگریز صدیوں سے اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اور ان کی کامیابی کا کم از کم ایک راز یہ بھی ہے اس مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی تم کوئی اقدام کرو تو خواہ تمہارے سفر کی رفتار کتنا ہی سست ہو، مگر اس بات کا پورا اہتمام کرو کہ ہر قدم یقینی طور پر نتیجہ خیز ہو۔ غور کیجئے تو موجودہ مسلمانوں کا ذہن اس کے بالکل خلاف ہے۔ ان کا اصول برعکس طور پر یہ ہے کہ تیزی کے ساتھ بڑے بڑے اقدام کرو، خواہ عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا ہو۔ مذکورہ مثل کوئی غیر اسلامی مثل نہیں۔ یہ فطرت کی زبان میں عین وہی بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے : فاصبر ... ولا تستعجل لهم (الاحقاف ۳۵) عجلت سے بچتے ہوئے صابرانہ عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جذباتی انداز میں دوڑ پڑنے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل کرے۔ اور ایک ایک قدم پختہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں قسم کی سرگرمیاں ہیں مگر ان کے یہاں صبر اور عدم استعجال موجود نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر اقدام الٹا پڑتا ہے۔ قربانیوں کے پہاڑ کھڑے کرنے کے باوجود موجودہ زمانہ میں وہ کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ۲۴ ستمبر کو لندن میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک نومسلم انگریز سے ہوئی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام ایز اٹ از (Islam as it is) کا ایک نسخہ موجود تھا۔ انھوں نے اس کتاب سے آخرت کا باب نومسلم انگریز کو پڑھایا۔ پڑھنے کے بعد اس نے اپنا تاثر ایک کاغذ پر لکھ دیا۔ یہ تاثر اس کے اپنے الفاظ میں یہ تھا : This is very good. This is based on reason. I haven’t read any other book free of any sentimental emotional plea to belief in the hereafter. ایک مغربی نومسلم سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گاڈ آرائز نر (God Arises) کا مطالعہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ وہی کتاب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page