Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 460

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کئی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اسلامی لٹریچر کے ذخیرہ میں گارڈ ارائزر جیسی اور کتا بیں پائی جاتی ہیں جو اسلام کی تعلیمات کو علمی اور عقلی دلیل کے ساتھ بیان کرتی ہوں۔ مگر کوئی شخص مجھے اس قسم کی کسی اور کتاب کا سراغ نہ دے سکا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ قرآن تو سراپا عقلی کتاب ہے۔ وہ عقل کو مخاطب کر کے اپنا پیغام دیتا ہے۔ مگر آجکل کے مسلمانوں کے ذہن سے یہ پہلو مخفی ہو گیا۔ وہ عقلی دلیل اور عقل کو مطمئن کرنے والے اسلوب میں دین کے داعی نہ بن سکے ۔ ورنہ ایسی بہت سی کتا بیں اسلامی کتب خانہ میں موجود ہوتیں ۔ آج کا انسان عقلی اطمینان کے بعد کسی عقیدہ کو اختیار کرتا ہے اور ہمارے پاس عقل کو مطمئن کرنے والی کتا بیں نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے عجیب انداز میں کہا کہ جب میں نماز پڑھتا ہوں اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو اکثر میری زبان سے اس قسم کے الفاظ نکلتے ہیں : Oh, Allah, help us to do intellectual jihad. And bring the rational ۲۴ ستمبر کی شام کو دگن سے واپسی ہوئی۔ یہاں سے بذریعہ ٹرین مجھے برنگھم پہنچنا تھا۔ دو عرب نوجوان جو ریلوے اسٹیشن تک مجھے پہنچانے آئے تھے۔ وہ میرے ساتھ ڈبہ میں داخل ہو گئے۔ وہ اترنا چاہتے تھے کہ ڈبہ کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہاں ٹرین کے دروازہ کو ڈرائیور کھولتا ہے اور وہی بند کرتا ہے۔ ان لوگوں کے پاس ٹکٹ نہیں تھا۔ ہندوستانی تجربہ کے تحت مجھے تشویش ہوئی۔ مگر ٹکٹ چیکر آیا تو اس نے پوچھ گچھ کی نہ جرمانہ لگایا۔ سادہ طور پر اس نے کرایہ لے کر وہی ٹکٹ دے دیا۔ جو اسٹیشن پر انھیں ملتا۔ اور پھر تھینک یو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ ٹرین نہایت صاف ستھری تھی۔ سیٹ سے لے کر ٹائیلٹ تک ہر چیز بالکل ہوائی جہاز کے انداز کی نظر آئی۔ میں نے کہا کہ یہ ٹرین تو گویا زمین پر دوڑتا ہوا ہوائی جہاز ہے۔ ڈبہ میں جگہ جگہ نو اسموکنگ کا اعلان لگا ہوا تھا جس کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ اس کی خلاف ورزی پر پچاس پونڈ جرمانہ ہے۔ یعنی ہندوستانی روپیہ میں تقریبا ڈھائی ہزار روپے۔ ایک طرف ایک خوبصورت کیس میں ایک خوبصورت ہتھوڑا رکھا ہوا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ ایمرجنسی کی حالت میں کھڑکی کے شیشہ کو توڑنے کے لئے اس ہتھوڑے کو استعمال کیجئے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page